Al-Risala · October 2011 · page 10

رسول اور خاتم الانبیاء

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۱۰

اس کتاب کا نام انسان نامعلوم (Man the Unknown) تھا۔ مگر زیادہ صحیح طور پر اس کتاب کا نام ہدایت نامعلوم (Guidance the Unknown) ہونا چاہیے۔ انسان کی صحیح ہدایت کا تعلق امور غیب سے ہے۔ یہ صرف خدا ہے جو امور غیب کا علم رکھتا ہے۔ اس لیے صرف خدا ہی انسان کو صحیح رہنمائی دے سکتا ہے۔ ماضی میں پیغمبروں کے ذریعے یہی رہ نمائی انسان کو دی جاتی رہی۔ اب اس خدائی رہ نمائی کا مستند متن قرآن کی صورت میں محفوظ ہے۔ اب قیامت تک کے لیے قرآن، نبوت کا بدل ہے۔ اب ضرورت صرف یہ ہے کہ انسان اس مستند کلام الہی (word of God) کو پڑھے، وہ اُس پر تدبر کرے اور قیامت تک اُس سے اپنے لیے رہ نمائی لیتا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جئت فختمتُ الأنبياء (صحيح مسلم، کتاب الفضائل) یعنی میں آیا اور میں نے نبیوں کی آمد کا سلسلہ ختم کر دیا۔ دلیل نبوت پیغمبر اسلام محمد بن عبد الله بن عبد المطلب (صلی اللہ علیہ وسلم) مکہ میں 570ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کی عمر چالیس سال ہوئی تو 610ء میں خدا نے آپ کو اپنا پیغمبر بنایا اور آپ پر قرآن اتارا۔ آپ کا مشن توحید کا مشن تھا۔ اس مشن کے لیے آپ نے تقریباً 23 سال تک کام کیا۔ اس کے بعد 632ء میں مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی اور وہیں آپ کی تدفین ہوئی۔ آپ نے استثنائی طور پر اپنے ساتھیوں کی ایک بڑی جماعت بنائی، جس کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ اصحاب رسول کی اس جماعت نے آپ کے مشن کو تکمیل کے درجے تک پہنچایا۔

رسول اور خاتم الانبیاء

قرآن اور حدیث کی صراحت کے مطابق، محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف نبی تھے، بلکہ وہ خاتم الانبیا بھی تھے، یعنی آپ کے بعد کوئی اور نبی آنے والا نہیں۔ آپ کے بارے میں خاتم الانبیا ہونے کا یہ اعلان صرف ایک اعلان نہیں، وہ آپ کے پیغمبر خدا ہونے پر ایک تاریخی دلیل بھی ہے۔ آپ نے ساتویں صدی کے رُبع اول میں یہ اعلان کیا کہ میں خاتم الانبیا ہوں۔ اس کے بعد سے لے کر اب تک

‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues

Printed page