Al-Risala · October 2011 · page 11

دعوائے نبوت نہیں

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۱۱

کوئی شخص نبی کا دعوے دار بن کر نہیں اٹھا۔ گویا کہ آپ کے الفاظ تاریخ کا ایک فیصلہ بن گئے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے یا آپ کے بعد کوئی شخص ایسا پیدا نہیں ہوا جو اپنے بعد آنے والی تاریخ میں کے بارے میں ایک بیان دے اور اس کا یہ بیان اس کے بعد تاریخ کا ایک واقعہ بن جائے۔ مثلاً کارل مارکس (وفات: 1883) نے اپنے تجزیے کی بنیاد پر یہ اعلان کیا تھا کہ کمیونسٹ انقلاب سب سے پہلے فرانس میں آئے گا، مگر اُس کا یہ اعلان واقعہ نہ بن سکا۔ اسی طرح تاریخ میں کئی لوگ ایسے گزرے ہیں، جنھوں نے مستقبل کے بارے میں پیشین گوئی کرنے کی جرات کی، مگر اس قسم کی ہر پیشین گوئی غلط ثابت ہوئی، وہ تاریخی واقعہ نہ بن سکی۔

اس عموم میں صرف ایک استثناء ہے، اور وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ آپ نے ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اول میں مدینہ میں یہ اعلان کیا کہ میرے بعد کوئی اور نبی آنے والا نہیں۔ یہ بات حیرت انگیز طور پر تاریخ کا ایک واقعہ بن گئی۔ یہ استثناء بلاشبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے رسول تھے اور اسی کے ساتھ نبیوں کے خاتم بھی۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اعلان قرآن میں بار بار کیا گیا ہے۔ مثلاً فرمایا: ما كَانَ محمدٌ أبا أحدٍ من رِّجالكم، ولكن رَّسولَ الله وخاتم النبيين (41 : 33)۔ اس آیت کے مطابق، محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبر بھی تھے اور خدا کے آخری پیغمبر بھی۔ اسی طرح خود محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان کیا کہ : أنا النّبيّ لا كذب (صحیح البخاری، كتاب الجهاد؛ صحيح مسلم كتاب الجهاد ) یعنی میں نبی ہوں ، اس میں کوئی شک نہیں۔ اسی طرح آپ نے فرمایا: أنا خاتم النبيين (صحيح البخاری، كتاب المناقب؛ صحيح مسلم، كتاب الفضائل؛

أبو داؤد، كتاب الفتن؛ الترمذی، كتاب الفتن؛ مسند احمد) یعنی میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی اور نبی آنے والا نہیں۔

دعوائے نبوت نہیں

یہ بات نہایت اہم ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پورے تاریخی دور میں ساری دنیا میں

‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues

Printed page