Al-Risala · October 2011 · page 19

علم قلیل

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۱۹

علم قلیل

قرآن کی سورہ الاسراء میں اعلان کیا گیا تھا کہ انسان کو صرف علم قلیل حاصل ہے (17:85)۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ انسان تخلیقی طور پر محدودیت (limitations) کا حامل ہے۔ اپنی اس فطری محدودیت کی وجہ سے وہ صرف علم قلیل تک پہنچ سکا ہے، علم کثیر کا حصول اس کے لیے ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں انسان کو خدا کے پیغمبر کے اوپر ایمان لانا چاہیے۔ پیغمبر وحی الہی کے ذریعے اُس بات کو جان لیتا ہے جس کو انسان اپنی محدودیت کی بنا پر نہیں جان سکتا۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کی ہدایت پیغمبر کے ذریعے حاصل کرے۔ اس معاملے میں انسان کے لیے اس کے سوا کوئی اور انتخاب (option) موجود نہیں۔

قرآن میں یہ بات ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں کہی گئی تھی۔ اُس وقت انسان اس کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ قرآن کی اس تنبیہ کے باوجود بڑے بڑے فلسفیانہ دماغ علم کلی کی تلاش میں سرگرداں رہے۔ آخر کار کئی ہزار سال کی ناکام کوشش کے بعد جدید سائنس ظہور میں آئی۔ جدید سائنس نے دوربین اور خوردبین جیسے بہت سے طریقے دریافت کیے۔ اب یہ یقین کیا جانے لگا کہ سائنسی مطالعے کے ذریعے انسان اُس مطلوب علم تک پہنچ جائے گا، جہاں تک پچھلے زمانے کا انسان نہیں پہنچ سکتا تھا۔ یہ تلاش نیوٹن کے بعد سے عالم کبیر (macro world) کی سطح پر چلتی رہی۔ آخر کار آئن اسٹائن (وفات: 1955) کا زمانہ آیا، جب کہ انسانی علم عالم صغیر (micro world) تک پہنچ گیا۔ اب یہ معلوم ہوا کہ جس مادّے کو پہلے قابل مشاہدہ (visible) سمجھا جاتا تھا، وہ بھی اپنے آخری تجزیے میں قابل مشاہدہ نہیں۔ یہاں پہنچ کر یہ مان لیا گیا کہ سائنسی طریقہ انسان کو علم کلی تک پہنچانے میں حتمی طور پر ناکام ہے۔ سائنس کی یہ علمی ناکامی پہلے صرف عالم صغیر کی حد تک دریافت ہوئی تھی، مگر بعد کی تحقیقات نے بتایا کہ خود عالم کبیر بھی انسان کے لیے حتمی طور پر قابل مشاہدہ ہے۔ سائنس کے آلات مادی دنیا کے بارے میں انسان کو کلی علم تک پہنچانے سے عاجز ہیں۔ انسان جس طرح عالم صغیر کے بارے میں علم قلیل رکھتا ہے، اُسی طرح وہ عالم کبیر کے بارے میں بھی صرف علم قلیل کا حامل ہے، اس سے زیادہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues

Printed page