دنیائے فانی کا نظریہ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۰
اور کچھ نہیں۔ یہ نظریہ بلیک ہول (Black Hole) کی دریافت کے بعد سامنے آیا۔ ایمسٹرڈم (ہالینڈ) میں ماہرین طبیعیات (physicists) کی ایک انٹرنیشنل کانفرنس 2007 میں ہوئی ۔ اس موقع پر فزکس کا نوبل پرائز پانے والے ایک امریکی سائنس داں جیمس واٹسن (James Watson Cronin) نے اپنے مقالے میں بتایا کہ۔ ہماری کائنات کا 96 فی صد حصہ ڈارک میٹر(dark matter) پر مشتمل ہے۔ اُس کی روشنی یا ریڈی ایشن ہم تک نہیں پہنچتی، اِس لیے ہم اُس کو ڈائرکٹ طور پر نہیں دیکھ سکتے۔ موجودہ آلات کے ذریعے ہم اُن کا احاطہ نہیں کر سکتے: Dark matter cannot be detected directly, because it does not emit or reflect light or radiation—or not enough to be picked up by available tools. (The Times of India, New Delhi, September 23, 2007, p. 20)
جیمس واٹسُن نے اپنے مذکورہ بیان میں مزید کہا کہ۔ ہم سمجھتے تھے کہ ہم کائنات کو جانتے ہیں، مگر معلوم ہوا کہ ہم کائنات کے صرف چار فی صد حصے ہی کو براہ راست طور پر جان سکتے ہیں: We think we understand the universe, but we understand four percent of everything. مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ علم کے بارے میں مستقبل نے اُسی بات کی تصدیق کی جو بہت پہلے اُس کتاب میں کہہ دی گئی تھی جو پیغمبر اسلام، خدا کی طرف سے لائے تھے۔ دنیا کے بڑے بڑے دماغ اس یقین کے ساتھ اپنی تلاش میں لگے ہوئے تھے کہ وہ علم کلی تک پہنچ سکتے ہیں، مگر قرآن میں پیشگی طور پر یہ اعلان کیا گیا کہ اپنی محدودیت کی بنا پر انسان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ خود اپنی کوشش سے علم کلی تک پہنچ سکے۔ آخر کار خود انسانی علم نے قرآن کے بیان کی تصدیق کر دی۔ مستقبل نے انسانی مفروضے کو رد کر دیا اور قرآن کے بیان کی کامل تصدیق کر دی۔
دنیائے فانی کا نظریہ
قرآن میں واضح الفاظ میں موجودہ دنیا کے بارے میں یہ تصور دیا گیا تھا کہ یہ زمینی سیارہ جس پر انسان آباد ہے، اس کی ایک محدود عمر ہے۔ یہاں انسان اپنے لیے جنت (paradise) کی تعمیر نہیں
‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues