نظریہ امن
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۶
میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ گاندھی ماضی میں بھی کامیاب نہیں ہوئے، پھر وہ آج کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ گاندھی کا مقصد ایک پرامن انقلاب لانا تھا، مگر اپنے پیش نظر مقصد کے مطابق، وہ کوئی پر امن انقلاب نہ لاسکے۔ انھوں نے جو کچھ کیا، وہ انقلاب نہ تھا، بلکہ محدود معنوں میں صرف حکم رانوں کی تبدیلی (coup) تھا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک ناگہانی انقلاب (coup) تھا، نہ کہ کوئی حقیقی انقلاب۔ میری یہ تقریر لفظ بہ لفظ مذکورہ اخبار میں چھپی۔ میری تقریر کے ایک جملے کو لے کر اخبار نے اُس کا عنوان ان الفاظ میں قائم کیا تھا: Gandhi presided over a non-violent coup, he didn’t usher in a revolution. یہی معاملہ ہر اُس رہنما اور مفکر کا ہوا جو امن (peace) کے نام پر کام کرنے کے لیے اٹھا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسانی زندگی میں پرامن واقعے کو ظہور میں لانے کے لیے ایک پر امن آئیڈیالوجی (peaceful ideology) درکار ہے۔ چوں کہ کوئی شخص پر امن آئیڈیا لوجی کو دریافت نہ کر سکا، اس لیے وہ پر امن زندگی کی تشکیل بھی نہ کر سکا۔
رہنماؤں کی اس ناکامی کا مشترک سبب یہ ہے کہ ہر ایک امن کو سیاسی اقتدار کے ساتھ جوڑے ہوئے تھا، ہر ایک نے وقت کے سیاسی اقتدار کو امن کی راہ میں رکاوٹ سمجھا، ہر ایک اس طرح سوچتا رہا کہ اگر امن کو حاصل کرنا ہے تو سب سے پہلے سیاسی اقتدار کی رکاوٹ ختم کرنا ہوگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امن کی ہر تحریک کے سیاسی اقتدار سے ٹکرا گئی۔ فطری طور پر ارباب اقتدار نے بھی اپنی طاقت کو ان تحریکوں کے خلاف استعمال کیا۔ اس طرح دونوں کے درمیان ٹکراؤ شروع ہو گیا۔ امن کے نام پر آخر میں جو چیز قائم ہوئی، وہ صرف بد امنی اور انار کی (anarchy) تھی ۔ اس کی ایک مثال 1947 کے بعد بننے والے’’گاندھیائی انڈیا‘‘ میں دیکھی جا سکتی ہے۔
تاریخ کی ان تمام مثالوں کے برعکس، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نیا فارمولا دریافت کیا۔ اس فارمولے کا علم آپ کو خدا کی طرف سے دیا گیا تھا۔ اسی لیے قرآن میں اُس کی بابت یہ الفاظ
‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues