نظریہ امن
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۷
آئے ہیں: علم ما لم تعلموا (48:27) یعنی خدا نے وہ بات جانی، جس سے انسان بے خبر تھا۔ امن کا فارمولا امن کا یہ فارمولا جو خدا نے اپنے علم کے تحت بتایا، وہ کیا تھا۔ وہ یہ تھا کہ ہر مسئلہ کے ساتھ مواقع موجود رہتے ہیں۔ اس لیے تم مسائل کو نظر انداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو: Ignore the problem, and avail the opportunities. پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کی رہنمائی سے اس فارمولے کو سمجھا اور اس کو حدیبیہ ایگری مینٹ (628ء) کی شکل میں استعمال کیا۔ حدیبیہ ایگری مینٹ گویا کہ امن فارمولے کا ایک کامیاب مظاہرہ (demonstration) تھا۔ (حدیبیہ ایگری مینٹ کی تفصیلات میری تحریروں میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ مثلاً ’’دعوہ ایکٹوزم‘‘، الرسالہ، فروری 2007)۔
امن کا یہ فارمولا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کبھی کوئی شخص دریافت نہ کرسکا۔ آپ نے اگرچہ اپنی زندگی میں اس فارمولے کو نہایت کامیاب طور پر استعمال کیا تھا، لیکن میرے علم کے مطابق، کوئی بھی شخص اس کو حقیقی طور پر سمجھ نہ سکا، حتی کہ خود مسلمان بھی اس فارمولے کو سمجھنے سے مکمل طور پر عاجز رہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمان ہر جگہ مسائل (problems) سے لڑ رہے ہیں۔ وہ اس حقیقت کو جان نہ سکے کہ مسائل کے باوجود اُن کے لیے نہایت اعلیٰ مواقع موجود ہیں۔ اُن کو چاہیے تھا کہ وہ مسائل کو نظر انداز کرتے اور مواقع (opportunities) کو استعمال کرتے، لیکن اپنی بے شعوری کی بنا پر وہ اس حکمت کو دریافت کرنے میں ناکام رہے۔
پیغمبر اسلام کے اس امن فارمولے نے تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ اس نئے دور کو ایک لفظ میں ڈی سنٹرلائزیشن آف پولیٹکل پاور (decentralization of political power) کہا جاسکتا ہے۔ اس بات کو قرآن میں وأخرى تحبونها (13 کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس قرآنی آیت کے مطابق، سیاسی اقتدار صرف ایک ثانوی چیز ہے۔ اولین چیزیں وہ ہیں جو سیاسی اقتدار کے باہر پائی جاتی ہیں۔ موجودہ زمانے میں انسٹی ٹیوشن (institution) کا تصور اسی
‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues