ایک غلط نہی
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۸
تاریخی پراسس (historical process) کا اگلا مرحلہ ہے۔
موجودہ زمانے میں ایسا ہوا ہے کہ سیاسی اقتدار کے باہر مختلف مقاصد کے لیے انسٹی ٹیوشن بنائے جاتے ہیں۔ مثلاً تعلیم کے لیے، صنعت و تجارت کے لیے، سماجی فلاح کے لیے اور مشنری ورک کے لیے، وغیرہ۔ ان اداروں کے ذریعے اتنے بڑے بڑے کام لیے جارہے ہیں کہ لوگوں نے حکومتی اقتدار (political power) کے بغیر مختلف عنوانات سے اپنے ایمپائر بنا رکھے ہیں۔ اس تبدیلی کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ماضی کے برعکس، حکومت کا دائرہ سمٹ کر اب صرف انتظامیہ (administration) تک محدود ہوگیا ہے۔ یہ تاریخ کی ایک عظیم تبدیلی ہے، مگر اس تبدیلی کا آغاز پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے کیا تھا۔
اس تبدیلی نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ حکومت سے ٹکراؤ کیے بغیر خالص پر امن طریق کار کے ذریعے بہت بڑے کام کیے جاسکیں۔ باشعور قوموں نے اس امکان سے فائدہ اٹھا کر عملاً ایسا کر رکھا ہے۔ چناں چہ ان لوگوں نے حکومت سے باہر رہتے ہوئے اور حکومت سے ٹکراؤ کیے بغیر انتہائی اعلیٰ پیمانے پر اپنا میڈیا ایمپائر اور ایجوکیشنل ایمپائر اور انڈسٹریل ایمپائر اور مشنری ایمپائر بنا لیا ہے۔ مگر جہاں تک اس امکان کی دریافت کا تعلق ہے، وہ پہلی بار پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کی رہنمائی کے تحت حاصل ہوئی۔ اس استثنائی معرفت کی اس کے سوا کوئی اور توجیہہ فہمیں کی جاسکتی کہ یہ مانا جائے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے پیغمبر تھے۔
ایک غلط نہی
کچھ لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ آج کی دنیا میں بہت سے دوسرے لوگ خدا کے پیغمبر کی حیثیت سے مانے جاتے ہیں۔ مثلاً ہندو لوگ رام اور کرشن کو پیغمبر کا درجہ دیتے ہیں۔ اسی طرح مسیحی لوگ حضرت مسیح کو خدا کی طرف سے بھیجا ہوا خصوصی رہنما سمجھتے ہیں۔ مگر یہ صرف ایک غلط فہمی ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
جہاں تک رام اور کرشن کا تعلق ہے، اس بحث کے ذیل میں اُن کو زیر غور لانا ممکن نہیں۔ اس کا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues