Al-Risala · October 2011 · page 29

ایک غلط نہی

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۹

سبب یہ ہے کہ رام اور کرشن ایک افسانوی شخصیت (mythological figure) کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کو تاریخی شخصیت (historical figure) کا درجہ حاصل نہیں۔ انڈیا کے کسی بھی مستند تاریخی ریکارڈ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ رام اور کرشن کوئی حقیقی شخصیت تھے۔ رام اور کرشن کا کوئی ریفرنس نہ انڈیا کی تاریخ میں پایا جاتا ہے اور نہ عالمی تاریخ میں۔

مثال کے طور پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہم خالص تاریخی ریکارڈ کی بنیاد پر یہ جانتے ہیں کہ وہ 570ء میں مکہ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے 610ء میں مکہ میں اپنی پیغمبری کا اعلان کیا اور اپنے مشن کا آغاز کیا۔ 622ء میں آپ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گیے اور وہاں انھوں نے اسلام کی پہلی اسٹیٹ (city state) قائم کی۔ 632ء میں آپ کی وفات مدینہ میں ہوئی اور وہیں پر آپ دفن کیے گیے۔ آپ کی قبر اب بھی مدینہ میں موجود ہے۔ اس قسم کی تاریخی معلومات (historical data) نہ رام کے بارے میں دست یاب ہیں اور نہ کرشن کے بارے میں۔

یہ حقیقت اتنی زیادہ واضح ہے کہ خود ہندو اسکالر اس کو مانتے ہیں۔ ہندو مصنفین نے اس موضوع پر مقالات اور کتابوں کی صورت میں بہت زیادہ لکھا ہے۔ یہاں میں صرف ایک تازہ مثال دوں گا۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا کے شمارہ 16 ستمبر 2007 میں ایک ہندو اسکالر ڈاکٹر ڈی این جھا کا ایک مفصل انٹرویو چھپا ہے۔ اس کے انٹرویو مستر کمل جیت سنگھ ہیں۔ اس انٹرویو کا پہلا سوال وجواب یہ ہے:

D N Jha, professor of history at Delhi university, said what had been captured by NASA’s cameras was a geological formation. The issue had “more to do with geology than history”, since the claim was 1.75 million years old. “To link that with Rama or Ramayana is ridiculous.” Linking just anything found with Ramayana or Mahabharata may be mythology, but it certainly isn’t history,” said Jha. تحریکوں کی تاریخ لارڈ ایکٹن (John Emerich Edward Dalberg Acton) مشہور مغربی مفکر ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues

Printed page