Al-Risala · October 2011 · page 30

ایک غلط نہی

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۳۰

وہ 1834ء میں پیدا ہوا اور 1902ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے سیاست اور حکومت کی تاریخ کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ اپنے مطالعے کی بنیاد پر اس نے سیاسی اقتدار (political power) کے بارے میں کہا کہ ــــ اقتدار بگاڑتا ہے، اور کامل اقتدار بالکل بگاڑ دیتا ہے:

Power corrupts, and absolute power corrupts absolutely. یہ تبصرہ بالکل درست ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کو جب بھی اقتدار ملتا ہے تو وہ بگڑ جاتا ہے۔ دوسروں کی سیاسی بُرائی بتانے والے، اقتدار پاتے ہی خود بھی اسی قسم کی برائی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کے اندر اپنی بُرائی کا احساس نہایت گہرے طور پر موجود ہے۔ اقتدار اس احساس کو غذا دیتا ہے، وہ اس کو ختم نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی اقتدار تک پہنچتے ہی تمام لوگ بگڑ جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں تاریخ کی چند مثالیں یہاں درج کی جاتی ہیں:

1۔ تحریکوں کی تاریخ میں بہت سے مشہور لوگوں کے نام آتے ہیں۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ ان لوگوں کو سیاسی ہنگامہ کرنے والے تو بہت سے لوگ ملے، لیکن ان میں سے کسی کو بھی قابل اعتماد ساتھی نہ مل سکے۔ مشہور فلسفی ارسطو (Aristotle) اس معاملے کی ایک تاریخی مثال ہے۔ وہ یونان میں 384 قبل مسیح میں پیدا ہوا اور 322 قبل مسیح میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ شاہ یونان الیگزنڈر دی گریٹ (Alexander the Great) کا استاد تھا۔ وہ آئیڈیل اسٹیٹ اور فلا سفر کنگ میں یقین رکھتا تھا۔ اس نے اس مقصد کے لیے الیگزنڈر کی تعلیم وتربیت اُس وقت کی، جب کہ وہ ابھی شہزادہ تھا۔ ارسطو کو یقین تھا کہ الیگزنڈر ایک فلاسفر کنگ بنے گا اور اس کے خوابوں کی آئیڈیل اسٹیٹ قائم کرے گا۔ لیکن بڑا ہونے کے بعد جب الیگزنڈر 336 قبل مسیح میں باقاعدہ بادشاہ بنا تو اس نے ارسطو کے راستے کو چھوڑ دیا اور عالمی فتوحات کے لیے نکل پڑا۔ اس کا سیاسی خواب ابھی پورا نہیں ہوا تھا کہ وہ صرف 33 سال کی عمر میں بیمار ہو کر بابل (عراق) میں مر گیا۔

2۔ یہی معاملہ کارل مارکس (Karl Marx) کا ہے۔ وہ 1818ء میں جرمنی میں پیدا ہوا اور 1883ء میں لندن میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کے افکار کی بنیاد پر بہت بڑی کمیونسٹ تحریک اٹھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues

Printed page