ایک غلط نہی
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۳۱
1917ء میں کمیونسٹ پارٹی روس میں حکومت کرنے میں کامیاب ہو گئی، لیکن مارکس کے تمام ساتھی اصل مارکسی راستے سے ہٹ گئے۔ ایک کمیونسٹ مسٹر میلُوون جیلاس (Milovan Djilas) کے الفاظ میں، طبقاتی فرق کو ختم کرنے کے نام پر کمیونسٹ گروہ خود ایک نیا طبقہ (new class) بن گیا۔ ٹراٹسکی (Leon Trotsky) روس میں 1879ء میں پیدا ہوا اور 1940ء میں میکسیکو سٹی میں کو قتل کر دیا گیا۔ ٹراٹسکی کمیونسٹ پارٹی میں لینن کے بعد نمبر دو کا لیڈر تھا، مگر 1917ء کے بعد اُس نے دیکھا کہ کمیونسٹ پارٹی کے لوگ سیاسی بگاڑ کا شکار ہو گئے۔ اس نے انقلاب سے غداری (Revolution Betrayed) کے نام سے ایک کتاب لکھی جو 1937ء میں چھپی۔ اس کے بعد خود روس کے کمیونسٹ لیڈروں نے اس کو ہلاک کر دیا۔
3- یہی منظر خود انڈیا میں نظر آتا ہے۔ مہاتما گاندھی نے زبردست سیاسی تحریک چلائی۔ ان کے ساتھ ایک بھیڑ اکٹھا ہو گئی، لیکن 1947ء میں آزادی کے بعد ان کی پارٹی کے تمام لوگ مہاتما گاندھی کے راستے سے ہٹ گئے ۔ یہ منظر دیکھ کر خود مہاتما گاندھی نے 1947ء کے بعد اپنی پارٹی کے لوگوں کے بارے میں کہا تھا اب میری کون سنے گا۔ مہاتما گاندھی کے اس جملے کو لے کر ایک کتاب ہندی میں لکھی گئی۔ اس کتاب کا ٹائٹل یہی ہے کہ اب میری کون سنے گا۔ 15 اگست 1947 کو انڈیا میں سیاسی آزادی آئی۔ اس کے بعد 30 جنوری 1948ء کو دہلی میں مہاتما گاندھی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ہیرؤوں کی جماعت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جو استثنائی واقعات جمع ہوئے، اُن میں سے ایک یہ ہے کہ آپ اپنے ساتھیوں کی ایک ایسی ٹیم بنانے میں کامیاب ہوئے، جیسی ٹیم پوری تاریخ میں کوئی نہ بنا سکا۔ اس واقعے کا اعتراف مورخین نے واضح الفاظ میں کیا ہے۔ مثلاً مشہور برطانی مستشرق ڈیوڈ سموئیل مارگولیتھ (David Samuel Margoliouth) 1885 میں لندن میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں عربک ڈیپارٹمنٹ کا پروفیسر تھا۔ اْس نے عرب تاریخ اور اسلامی تاریخ کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا نے اُس کی بابت یہ الفاظ لکھے ہیں اُس کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کو
‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues