Al-Risala · October 2011 · page 40

دعوت اور حجت

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۴۰

مثلاً قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ: وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة (39: یعنی تم اُن سے قتال (جنگ) کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔ اس آیت میں فتنہ سے مراد مذہبی جبر (religious persecution) ہے۔ قدیم بادشاہی زمانے میں لمبی مدت سے دنیا میں مذہبی جبر کا نظام قائم تھا۔ اس قِسم کا نظام نہ اچانک قائم ہوتا اور نہ وہ اچانک ختم ہوتا۔ اس قرآنی حکم کا مدعا یہ تھا کہ تاریخ بشری میں ایک ایسا عمل (process) جاری ہو جائے، جس کے نتیجہ میں ایسا ہو کہ مذہبی جبر مکمل طور پر ختم ہو جائے اور اس کے بجائے مذہبی آزادی کی حالت مکمل طور پر قائم ہو جائے۔ مذہبی آزادی (religious freedom) کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ وہ براہِ راست خدا کے تخلیقی پلان (creation plan) سے جُڑا ہوا معاملہ ہے۔ خدا نے انسان کو امتحان (test) کے مقصد کے تحت اس دنیا میں رکھا ہے۔ اس مقصد کے تحت، دنیا میں آزادی کا ماحول ہونا ضروری ہے۔ اسی حکمت کی بنا پر پیغمبرِ اسلام کو استیصالِ فتنہ کا حکم دیا گیا اور اس کے مطابق، آپ کے لیے اسباب فراہم کیے گئے ۔ چناں چہ آپ نے اِس کام کو انجام دیا، یہاں تک کہ انسانی تاریخ میں مذہبی آزادی (religious freedom) کا دور کامل طور پر آگیا۔

دعوت اور حجت

خدا کی ہدایت کے دو پہلو ہیں— دعوت اور حجت۔ دعوت سے مراد یہ ہے کہ ہدایت الہی کو کسی کمی یا بیشی کے بغیر بتانا۔ خدا کا صحیح تعارف، خدا کے تخلیقی نقشے کا اعلان، جنت اور جہنم کے معاملے سے انسان کو باخبر کرنا، وغیرہ۔ انھیں حقیقتوں کی وضاحت کا نام دعوت ہے۔

دعوت کا یہ عمل تمام پیغمبروں نے اپنے اپنے زمانے میں کیا۔ نکاتِ دعوت کے اعتبار سے، ایک پیغمبر اور دوسرے پیغمبر کے درمیان کوئی فرق نہ تھا۔ البتہ ایسا ہوا کہ پچھلے پیغمبروں کا دعوتی کلام اپنی صحیح صورت میں محفوظ نہ رہ سکا۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا دیا ہوا دعوتی ذخیرہ (قرآن اور حدیث) مکمل طور پر اپنی اصل زبان میں محفوظ ہو گیا۔ اس طرح یہ ممکن ہو گیا کہ بعد کی نسلیں بھی آپ کے دعوتی پیغام سے اُسی طرح باخبر ہوسکیں، جس طرح آپ کے ہم زمانہ لوگ باخبر ہوئے تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues

Printed page