Al-Risala · October 2011 · page 41

دعوت اور حجت

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۴۱

جہاں تک حجت کا سوال ہے، اُس کے دو درجے ہیں۔ روایتی استدلال اور علمی استدلال۔ استدلال ہمیشہ معلوم اشیا کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ قدیم زمانے میں انسانی معلومات کا دائرہ روایتی اشیا تک محدود تھا، اِس لیے قدیم زمانے میں ہمیشہ روایتی استدلال پر اکتفا کیا گیا۔ مثلاً حضرت یوسف خدا کے ایک پیغمبر تھے۔ اُن کا زمانہ 1910 تا 1800 قبل مسیح بتایا گیا ہے۔ انھوں نے قدیم مصر میں توحید کی دعوت دی۔ اُس وقت انھوں نے فرمایا: اے میرے جیل کے ساتھیو، کیا جُدا جُدا کئی معبود بہتر ہیں، یا اللہ اکیلا زبردست (39: 12)۔

یہ روایتی استدلال کی ایک مثال ہے۔ مگر یہاں ایک اور استدلال موجود تھا، اور وہ تھا علمی استدلال (scientific reasoning)۔ یہ استدلال وہ تھا جو خدا کی پیدا کردہ نیچر (فطرت) میں موجود تھا، مگر یہ استدلال قدیم زمانے میں صرف امکان کے درجے میں تھا، وہ ابھی تک واقعہ نہیں بنا تھا۔ پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے ذریعے جو انقلاب پیش آیا، اس نے تاریخ میں ایک نیا پراسس جاری کیا۔ اس کے نتیجے میں ایسا ہوا کہ یہ امکانی استدلال واقعہ بن کر سامنے آگیا۔ فطرت کی تسخیر نیچر کا لفظ جب بولا جاتا ہے تو اُس سے مراد پوری دنیائے مخلوقات ہوتی ہے: Nature: The Sum total of all things in time and sapce; the entire physical universe. یہ نیچر ہمیشہ سے موجود تھا، لیکن قدیم زمانے میں انسان شرک میں مبتلا ہو گیا۔ شرک دراصل مظاہر فطرت کی پرستش (nature worship) کا دوسرا نام ہے۔ چوں کہ انسان نیچر کو معبود کی نظر سے دیکھتا تھا، اِس لیے وہ اس کو تحقیق و تفتیش (exploration) کی نظر سے نہ دیکھ سکا۔ اس طرح، شرک ایک مستقل ذہنی رکاوٹ (mental block) بن گیا۔ علمی دلائل جن کو قرآن میں آیات (نشانیاں) کہا گیا ہے، وہ عالم فطرت میں موجود تھیں، مگر وہ ظاہر ہو کر سامنے نہ آسکیں۔ قرآن میں پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کو ایک حکم ان الفاظ میں دیا گیا تھا: وقاتلوهم حتّى لا تكون فتنة، ويكون الدّين كلّه لله (39: 8)۔ مفسرین کے مطابق، اس آیت میں فتنہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues

Printed page