Al-Risala · October 2011 · page 42

دعوت اور حجت

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۴۲

سے مراد شرک ہے۔ پیغمبر اور آپ کے اصحاب کو حکم دیا گیا کہ شرک کو ختم کرو، خواہ ارباب شرک کی جارحیت کی بنا پر اُن کے مقابلے میں جنگ کرنا پڑے۔ چناں چہ ایسا ہی ہوا۔ پیغمبر اصحاب پیغمبر کی کوششوں کے نتیجے میں شرک کا سیاسی اور اجتماعی غلبہ دنیا سے ختم ہو گیا۔ اس کے بعد دنیا میں ایک نیا عمل شروع ہوا۔ ایک لفظ میں اس کو فطرت کی پرستش کے بجائے، فطرت کی تسخیر کا عمل کہا جا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دھیرے دھیرے ایسا ہوا کہ فطرت (نیچر) میں چھپے ہوئے دلائل سامنے آگئے۔ یہ تاریخی عمل اسلام کے ابتدائی زمانے میں شروع ہوا اور یورپ کی نشأۃ ثانیہ کے بعد وہ اپنی تکمیل تک پہنچا۔ اس طرح یہ ممکن ہو گیا کہ خدائی حقیقتوں کو روایتی دلائل کے بجائے سائنسی دلائل کے ذریعے ثابت شدہ بنایا جا سکے۔ چند مثالوں سے اس کی وضاحت ہوتی ہے: 1 - خدا کے وجود پر قرآن میں ایک دلیل یہ دی گئی تھی کہ: أ في الله شك، فاطر السموات والأرض (14: 10) یعنی کیا خدا کے بارے میں شک ہے، جو آسمانوں اور زمین کو پھاڑنے والا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں لفظ فاطر (پھاڑنے والا) خدا کے وجود کا ایک ثبوت ہے۔ کیوں کہ پھاڑنا ایک بالقصد مداخلت (intervention) کا عمل ہے۔ اور بالقصد مداخلت کا عمل ایک مداخلت کار (intervener) کا ثبوت ہے۔ اور جب مداخلت کار کا وجود ثابت ہو جائے تو اپنے آپ خدا کا وجود (existence of God) ثابت ہو جاتا ہے۔

قرآن کی اس آیت میں خدا کے وجود (existence of God) کا ایک علمی ثبوت موجود ہے، لیکن اس علمی ثبوت کی وضاحت صرف دورِ سائنس کے بعد ہوئی۔ بیسویں صدی کے رُبع اوّل میں سائنس دانوں نے اُس کائناتی واقعے کو دریافت کیا، جس کو بگ بینگ (Big Bang) کہا جاتا ہے۔ بگ بینگ کی دریافت کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ مذکورہ قرآنی آیت میں چھپے ہوئے سائنسی دلائل کو سمجھا جائے اور اس کو استعمال کیا جائے۔

2- قرآن کی سورہ الجاثیہ میں خدا کی ایک نعمت کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے: اللّٰه الذي سخّر لكم البحر لتجري الفلك فيه بأمره (12 : 45) یعنی اللہ ہی ہے جس نے تمھارے لیے

‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues

Printed page