دعوت اور حجت
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۴۳
سمندر کو مسخر کر دیا، تا کہ اُس کے حکم سے سمندر میں کشتیاں چلیں۔
قرآن کی اِس آیت میں ایک عظیم حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ قدیم روایتی زمانے کا انسان اِس معاملے کو صرف ایک پُر اسرار عقیدے کے طور پر لیتا تھا، مگر موجودہ زمانے میں اِس کی توجیہہ، ایک معلوم فطری قانون کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔ موجودہ زمانے میں ایک جدید سائنس ظہور میں آئی ہے، جس کو علم سکون سیالات (science of hydrostatics) کہا جاتا ہے۔ اِس کے مطابق، پانی یا سیال چیزیں ایک خاص قانون کے تابع ہیں۔ اور وہ تخفیفِ وزن (buoyancy) یا ٹھوس اَجسام کو پانی میں ڈالنے سے اِس کو بہ حال رکھنے یا ابھارنے کی صلاحیت ہے :
(Buoyancy) The upward pressure by any fluid on a body, partly or wholly, immersed therein, it is equal to the weight of the fluid displaced. اِس جدید سائنس کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ قرآن کی مذکورہ آیت کو خالص علم انسانی کی بنیاد پر سمجھا جا سکے۔ اور خدا کے اِس عظیم احسان پر یقین کیا جائے کہ اِس نے سمندر کو ایک محکم قانون کا پابند بنا دیا۔ اِس بنا پر یہ ممکن ہو گیا کہ وسیع سمندروں کی سطح پر انسان کشتی اور جہاز کے ذریعے سفر کر سکے اور وہ دور دراز منزل تک بہ آسانی پہنچ جائے۔
3۔ خدا کی ایک نعمت کا ذکر قرآن کی سورہ ق میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : ونزّلنا من السماء ماءً مبارکاً (50:9) یعنی ہم نے آسمان سے مبارک پانی اتارا۔ قرآن کی اِس آیت میں خدا کی ایک عظیم نعمت کا ذکر ہے۔ قدیم زمانے میں یہ بات صرف ایک روایتی عقیدے کی حیثیت رکھتی تھی، مگر سائنسی دریافتوں کے بعد وہ ایک عظیم علمی دلیل کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ قرآن کی اِس آیت میں بارش کا حوالہ دیا گیا ہے۔ بارش کیا ہے۔ بارش دراصل سمندر کا پانی ہے، جو بھاپ بن کر اوپر جاتا ہے اور پھر مخصوص قانون کے تحت دوبارہ وہ نیچے کی طرف لوٹتا ہے، جس کو بارش کہتے ہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، سمندر کا پانی کھاری ہوتا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کیوں کہ سمندر کے پانی میں 1/10 حصہ نمک شامل رہتا ہے۔ یہ نمک سمندر کے پانی میں تحفظّی مادہ (preservative) کے
‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues