دعوت اور حجت
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۴۴
طور پر شامل کیا گیا ہے۔ چوں کہ پانی کے مقابلے میں نمک کا وزن کسی قدر زیادہ ہوتا ہے، اس لیے جب سمندر کا پانی سورج کی گرمی سے بھاپ بن کر اوپر کی طرف اٹھتا ہے تو اس کا نمک کا حصہ نیچے رہ جاتا ہے۔ یہ ازالہ نمک (desalination) کا ایک عمل ہے، جو خدا کے قانون کے تحت ہوتا ہے۔ اسی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ سمندر کا کھاری پانی ہم کو شیریں پانی کی صورت میں دست یاب ہوتا ہے۔ اس عمل کے بغیر سمندر کا پانی ہمارے لیے قابل استعمال ہی نہ ہوتا۔
کولرج (Coleridge) ایک برٹش شاعر ہے۔ اس کی وفات 1834 میں ہوئی۔ اس نے ایک نظم لکھی ہے۔ اس نظم میں اس نے بتایا ہے کہ لکڑی کا بنا ہوا ایک جہاز سمندر میں سفر کے لیے روانہ ہوا۔ درمیان میں سخت طوفان آیا۔ اُس کے نتیجے میں جہاز ٹوٹ گیا۔ بہت سے لوگ پانی میں ڈوب گئے۔ ایک مسافر کو جہاز کا ایک تختہ مل گیا۔ وہ اس تختے کے اوپر لیٹ گیا اور پانی میں تیرنے لگا۔ وہ پیاسا تھا، لیکن وہ اپنی پیاس بجھا نہیں سکتا تھا، کیوں کہ اُس پاس کے آس جو پانی تھا، وہ سب کا سب کھاری پانی تھا۔ شاعر اس کی تصویر کشی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ہر طرف پانی ہے، لیکن ایک قطرہ بھی پینے کے لیے نہیں: Water water everywhere, nor a drop to drink. قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے پانی کو مبارک (purified) بنا کر آسمان سے اُتارا۔ یہ بلاشبہ خدا کی ایک عظیم نعمت ہے۔ قدیم زمانے میں یہ معاملہ ایک روایتی عقیدے کی حیثیت رکھتا تھا، لیکن موجودہ زمانے میں سائنس کی دریافتوں نے اس کو ایک عظیم قابل شکر حقیقت بنا دیا۔ 4۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک بار سورج گرہن پڑا۔ اتفاق سے اُسی دن پیغمبر اسلام کے بیٹے ابراہیم کا کم عمری میں انتقال ہو گیا تھا۔ مدینہ کے لوگوں نے اُس کو دیکھا تو انھوں نے کہا کہ پیغمبر کے بیٹے کا انتقال ہوا تھا، اس لیے آج یہ سورج گرہن واقع ہوا ہے (كشفت الشمس لموت إبراهيم) لوگوں کا ایسا کہنا قدیم زمانے کے رواج کی بنا پر تھا۔ کیوں کہ اُس زمانے میں لوگ اسی قسم کے واقعات کو گرہن کا سبب سمجھتے تھے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے مدینہ کے لوگوں کو وہاں کی مسجد میں اکٹھا کیا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues