Al-Risala · October 2011 · page 45

دعوت اور حجت

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۴۵

اور انھیں خطاب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: إنّ الشمس والقمر لا يخسفان لموت أحدٍ ولا لحياته، ولكنهما آيتان من آيات الله، فاذا رأيتموهما فصلّوا وادعوا الله حتّى يُكشف ما بكم (صحيح البخاري، کتاب الکسوف) یعنی کسی کے مرنے اور کسی کے جینے سے چاند اور سورج میں گرہن واقع نہیں ہوتا، بلکہ وہ خدائی نشانیوں میں سے دونشانی ہیں۔ پس جب تم ان کو دیکھو تو تم نماز پڑھو اور اللہ سے دعا کرو، یہاں تک کہ گرہن کھل جائے۔ اس حدیث رسول میں سورج گرہن اور چاند گرہن (solar eclipse & lunar eclipse) کونشانی (signs) کہا گیا ہے۔ قدیم زمانے کے مخاطبین اپنے روایتی فریم ورک کے اعتبار سے اتناہی سمجھ سکتے تھے۔ لیکن موجودہ زمانے میں لوگوں کا فریم ورک سائنٹفک فریم ورک بن چکا ہے۔ اب آج کا انسان اس قابل ہوگیا ہے کہ وہ خالص علمی معنوں میں اس حقیقت کو سمجھ سکے۔ اور اس طرح زیادہ گہرائی کے ساتھ وہ معرفت کا رزق حاصل کرے ۔

موجودہ زمانے میں جدید فلکیات کے تحت مطالعے کے بعد یہ معلوم ہوا ہے کہ زمین اور سورج اور چاند تین انتہائی مختلف سائز کے متحرک اجرام ہیں۔ مگر وسیع خلا میں اُن کو ایک نا قابلِ قیاس حساب کے ذریعے ایک خاص پوزیشن کے تحت ایک سیدھ میں لایا جاتا ہے، اسی خاص پوزیشننگ کے نتیجے میں سورج گرہن اور چاند گرہن واقع ہوتا ہے:

Eclipse is a result of unimaginably well-calculated aligning of three different moving bodies in the vast sapce. دعوت کا نیا دور سیرت کے موضوع پر راقم الحروف کی کتاب ’پیغمبرِ انقلاب‘ پہلی بار 1982 میں چھپی۔ اُس میں میں نے ایک حدیث نقل کرتے ہوئے لکھا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ بدر کے موقع پر اپنے اصحاب کو ’العصابة‘ سے تعبیر کیا تھا۔ میں نے لکھا تھا کہ یہ العصابة کوئی سادہ گروہ نہ تھا، بلکہ یہ وہ گروہ تھا، جس پر ڈھائی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی تھی۔ اس طرح اُس کے افراد اس قابل ہوئے کہ تاریخ میں وہ ایک عظیم انقلابی دور کا آغاز کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues

Printed page