فقدانِ شعور
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۴
فقدانِ شعور
کشمیر کے ایک مسلم پروفیسر سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کشمیر کے بارے میں مایوسی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر میں ہندوستانی فوج کی ہیبت ناک موجودگی کشمیر میں کسی تعمیری کام کے آغاز کے لئے مستقل رکاوٹ کی حیثیت رکھتی ہے:
The awesome presence of the Indian army is a permanent obstacle to any constructive work in Kashmir. میں نے کہا کہ کشمیر کا اصل مسئلہ وہاں ہندوستانی فوج کی موجودگی نہیں، بلکہ کشمیر کا اصل مسئلہ خود کشمیریوں کے اندر اسلامی شعور کی غیر موجودگی ہے۔ کشمیر کے لیڈروں نے کبھی کشمیریوں کے اندر اسلامی شعور پیدا نہیں کیا، انھوں نے صرف جذباتی تقریریں کیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کشمیری مسلمان ایک بے شعور قوم بن کر رہ گئے۔
میں نے کہا کہ کشمیر کو جس مسئلے کا سامنا ہے، اس سے ہزاروں گنا زیادہ بڑا مسئلہ تیرھویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا تھا۔ یہ تاتاریوں کا وحشیانہ حملہ تھا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ مسلم دنیا میں ہر طرف تاتاریوں کی سپر ہیبت ناک موجودگی (super awesome presence) دکھائی دینی لگی۔ مگر اس وقت مسلمانوں میں اسلامی شعور زندہ تھا۔ انھوں نے تاتاریوں کو حملہ آور کے بجائے مدعو کا درجہ دے دیا۔ وہ بڑے پیمانے پر تاتاریوں کے درمیان اسلامی دعوت کا کام کرنے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو قوم بظاہر اسلام کی دشمن تھی، وہ اسلام کی خادم بن گئی۔ یہ اسلامی شعور کا معجزہ تھا جو بدقسمتی سے کشمیر کے مسلمانوں کے اندر موجود نہیں۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی مسئلے کا سبب کہیں اور ہوتا ہے اور آدمی اُس کے حل کے لیے کسی اور جگہ محنت کرنے لگتا ہے۔ جب بھی کوئی مسئلہ پیش آئے تو پہلا کام یہ ہے کہ بے لاگ جائزہ کے ذریعہ یہ دریافت کیا جائے کہ اس مسئلے کا اصل سبب کہاں ہے۔ اصل سبب پر محنت کرنے سے مسئلہ حل ہوتا ہے، اور کسی دوسری چیز پر محنت کرنے سے نتیجہ جو چیز ملتی ہے، وہ مسئلے میں اضافہ ہے، نہ کہ مسئلے کا حل۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues