On the Threshold of A New Era
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۱۹
جس نے اسلام اور جدید علمی چیلنج کے موضوع پر باقاعدہ مطالعہ کیا اور اس پر ایک مکمل کتاب تیار کی۔ اگر آپ کے خیال کے مطابق، اس موضوع پر کوئی دوسری کتاب پائی جاتی ہے، تو آپ مجھے اُس کا نام بتائیں۔ میرے اِس جواب کے بعد لوگ خاموش ہوگئے اور میری کتاب کو 1966 میں مجلس تحقیقات و نشریات اسلام سے شائع کر دیا گیا، جو اس کتاب کا پہلا ایڈیشن تھا۔ اس کے بعد میری زندگی مختلف مراحل سے گزرتی رہی۔ یہاں تک کہ میں نے 1970 میں دہلی میں اسلامی مرکز کے نام سے ایک دعوتی ادارہ قائم کیا، اور 1976 میں 'الرسالہ' کے نام سے ایک دعوتی ماہ نامہ جاری کیا، جواب تک پابندی کے ساتھ نکل رہا ہے۔ اس ادارہ (اسلامی مرکز) کے تحت، میں نے باقاعدہ طور پر کتابیں شائع کرنا شروع کیا۔ ان کتابوں کا موضوع براہ راست یا بالواسطہ طور پر صرف ایک ہوتا تھا، اور وہ ہے — جدید علمی چیلنج کے مقابلے میں اسلام کا مدلّل تعارف پیش کرنا۔ ماہ نامہ الرسالہ میں ان کتابوں کا اشتہار جس عنوان کے تحت چھپتا تھا، وہ عنوان یہ تھا — عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جدید تہذیب کے ظہور اور پرنٹنگ پریس کے زمانے میں پوری مسلم دنیا میں مختلف زبانوں میں کثرت سے کتابیں چھاپی گئیں، لیکن میرے علم کے مطابق، ان کتابوں کے تعارف کے لیے کسی نے بھی "عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر" کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ جہاں تک میں جانتا ہوں، اب بھی کوئی مسلم ادارہ ایسا نہیں ہے جو اپنی مطبوعات کے تعارف کے لیے عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر کا لفظ استعمال کرتا ہو۔ گویا کہ یہ ٹائٹل غیر متنازعہ طور پر صرف ہمارے مشن کے تحت شائع شدہ کتابوں پر منطبق ہوتا ہے۔ کوئی دوسرا شخص یا ادارہ اس معاملے میں، دعوے دار کے درجے میں بھی اس میں شریک نہیں۔ جدید تہذیب کی طرف سے جو فکری چیلنج پیدا ہوا، اس کا تعلق تمام مذاہب سے تھا۔ اس صورت حال کے پیدا ہونے کے بعد دورِ جدید میں کچھ نمایاں افراد پیدا ہوئے جنھوں نے اپنے عقیدہ یا اپنے مذہب کو ماڈرن معیار پر پیش کرنے کا کام کیا۔
مثال کے طور پر ڈاکٹر رادھا کرشنن (وفات: 1975) ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص تھے۔ ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ وہ ہندوازم (Hinduism) پر گہرا عقیدہ رکھتے تھے۔ انھوں نے ہندوازم کو جدید
‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues