On the Threshold of A New Era
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۰
معیار پر پیش کرنے کہ کوشش کی۔ اس سلسلے میں ان کی دو کتابوں کے نام یہ ہیں: A Source Book in Indian Philosophy, 1957 Recovery of Faith, 1956 ڈاکٹر رادھا کرشنن موجودہ زمانے کے نہایت اعلی تعلیم یافتہ شخص تھے، تاہم یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ اپنے مقصد میں زیادہ کامیاب نہیں ہوئے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے جس مقدمے کی پیروی کی، وہ مقدمہ اپنے آپ میں کم زور تھا۔ اور جو مقدمہ اپنے آپ میں کمزور ہو، کوئی بڑے سے بڑا وکیل بھی اس کو مضبوط نہیں بنا سکتا۔
1938 سے 1947 تک دس سال کا زمانہ میری زندگی میں بہت اہم زمانہ تھا۔ اس زمانے میں میرا دماغ افکار و نظریات کے اعتبار سے گویا کہ ایک میلٹنگ پاٹ (melting pot) بنا ہوا تھا۔ اُس زمانے میں پورے عالمِ اسلام میں مسلمانوں کے حال اور مستقبل کے بارے میں بحث چھڑی ہوئی تھی۔ ہر تحریر اور ہر تقریر میں اسی کا چرچا ہوتا تھا۔ فطری طور پر میرا ذہن مختلف خیالات کی آماج گاہ بنا ہوا تھا۔ انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اوّل میں پوری مسلم دنیا میں بڑے پیمانے پر فکری سرگرمیاں جاری تھیں ۔ بہ ظاہر ان سرگرمیوں کے مختلف دھارے تھے، لیکن ایک چیز سب میں مشترک تھی، وہ یہ کہ یہ مختلف قسم کی سرگرمیاں اصلا ردِ عمل کے تحت پیدا ہوئیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، اس زمانے میں مغربی قوموں نے جدید ذرائع کے بل پر پوری مسلم دنیا میں سیاسی اور تہذیبی غلبہ حاصل کر لیا تھا۔ یہ صورتِ حال مسلم رہنماؤں کے لیے نا قابلِ قبول تھی۔ چناں چہ ہر ایک احیاء (revival) کے نام پر اٹھ کھڑا ہوا۔ ان سب کا مشترک نشانہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے قدیم دورِ عروج کو دوبارہ جدید تاریخ میں واپس لایا جائے۔
مسلمانوں کے اندر اگر یہ سرگرمیاں مثبت ذہن کے تحت پیدا ہوئی ہوتیں ، تو ان کا ماڈل زمانہ رسالت ہوتا۔ اس ابتدائی ماڈل کی پیروی میں وہ دعوت الی اللہ کو اپنا نشانہ بناتے۔ لیکن ان سرگرمیوں کا سرچشمہ چوں کی منفی ردِ عمل تھا، اس لیے عملاً بعد کو قائم ہونے والا دورِ تاریخ لوگوں کا ماڈل بن گیا۔ لوگ
‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues