The Quran has to be re-revealed today.
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۱
عباسی سلطنت، اور عثمانی سلطنت، اور مغل سلطنت کے زمانے کو دوبارہ واپس لانے کے نشانے کے تحت، سرگرمِ عمل ہو گئے۔ ان سرگرمیوں کے دو بڑے دھارے تھے— تھے—احیاء خلافت، اور احیاء جہاد۔ ان دونوں دھاروں کے تحت بیسویں صدی عیسوی میں غیر معمولی کوششیں کی گئیں، لیکن اپنے مطلوب نشانے کے اعتبار سے یہ کوششیں مکمل طور پر نا کام رہیں۔ اس کا سبب یہ تھا کہ یہ لوگ صرف دورِ قدیم کی مسلم تاریخ کو جانتے تھے، اور اسی قدیم ماڈل کو دوبارہ واپس لانے کے لیے وہ سرگرمِ عمل ہو گئے۔ وہ اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ کامیابی کے لیے دوسری ضروری مطلوب چیز ہے، وہ رعایت زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں کام کے طریقے پوری طرح بدل چکے تھے۔ یہ لوگ اپنی بے خبری کی بنا پر اس تبدیلی کی رعایت نہ کر سکے، اس لیے وہ اپنے مطلوب نشانے کو حاصل کرنے میں مکمل طور پر نا کام رہے۔ دوسرا فکری دھارا وہ تھا جس کا کہنا یہ تھا کہ اسلام کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانے کی ضرورت ہے، ورنہ اسلام کو اس کی مطلوب اہمیت حاصل نہ ہو سکے گی۔ اس نقطہ نظر کے حامل ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے لکھا تھا کہ — آج ضرورت ہے کہ قرآن دوبارہ نازل ہو:
The Quran has to be re-revealed today.
اس دوسرے فکری دھارے کو امت میں قبولیت حاصل نہ ہوسکی۔ یہ لوگ صرف ایک قسم کا مبتدعانہ گروہ بن کر رہ گئے ۔ اس کا سبب میرے نزدیک یہ ہے کہ جن افراد نے اس دوسرے دھارے کی نمائندگی کی، وہ اپنے مشن کے لیے پوری طرح اہل (competent) نہ تھے۔ اُن کا مدعا اصلاً غلط نہ تھا، لیکن وہ طاقت ور انداز میں اس کی درست نمائندگی نہ کر سکے ۔ اس بنا پر وہ اپنے اصل مقصد، دورِ جدید کے اعتبار سے امت کو رہنمائی دینے میں نا کام رہے۔
راقم الحروف نے اللہ کی توفیق سے، اسلام کی دعوت کو اپنا موضوع بنایا۔ اس سلسلے میں میں نے وسیع مطالعے کے ذریعے اسلام اور جدید تحدّیات (modern challenges) کو سمجھنے کی کوشش کی۔ میں نے پایا کہ جدید تعلیم یافتہ لوگوں میں عام تاثر یہ ہے کہ اسلام جدید دور میں غیر متعلق (irrelevant) ہو گیا ہے۔ اسلام کے اندر یہ طاقت نہیں کہ وہ جدید ذہن کو ایڈریس کر سکے۔ موجودہ زمانے میں مسلم مصنفین نے جو کتابیں
‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues