Al-Risala · November 2011 · page 22

The Quran has to be re-revealed today.

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۲

لکھی ہیں، وہ تقریباً سب کی سب قدیم روایتی اسلوب میں ہیں۔ اس قسم کی کتابیں جدید تحدیات کا جواب نہیں بن سکتیں ۔ یہ کتابیں آج کے ذہن کو اسلام کی صداقت پر مطمئن کرنے کے لیے یقینی طور پر نا کافی ہیں۔ اس معاملے کا موضوعی مطالعہ (objective study) کرنے کے بعد میں نے یہ پایا کہ جدید دور کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ روایتی ذہنی فریم ورک اب ٹوٹ گیا ہے۔ آج کے انسان کا ذہنی فریم ورک اُس سے بالکل مختلف ہے جو قدیم زمانے کے انسان کا ہوا کرتا تھا۔ ماڈرن افکار کو سمجھنے کے لیے میں نے بہت سی کتابیں پڑھیں۔ ان میں سے کچھ کتابوں کے نام یہ ہیں: 1. Thomas Paine, The Age of Reason (1994)

2. J.F. West, The Great Intellectual Revolution (1965) 3. Julian Huxley, Religion without Revelation (1927) 4. A.A.A. Faizi, A Modern Approach to Islam (1963)

5. Philip Hodgkiss, The Making of the Modern Mind (2001) 6. John Herman Randall, The Making of the Modern Mind (1926) 7. Brinton Corone, The Shaping of the Modern Mind (1953) 8. W. T. Stace, Religion and the Modern Mind (1952)

کامیاب دعوت وہ ہے جو مخاطب کے مائنڈ کو ایڈریس کرے ۔ موجودہ زمانے کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ قدیم روایتی لٹریچر جدید ذہن کو ایڈریس کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہا ہے۔ گویا کہ آج داعی اور مدعو کے درمیان ایک فکری بُعد (intellectual gap) پیدا ہو گیا ہے۔ اس لیے اسلامی دعوت کے سلسلے میں پہلا ضروری کام یہ ہے کہ اس فکری بُعد کو ختم کیا جائے تاکہ اسلام آج کے انسان کے لیے قابل فہم (understandable) اور قابل قبول (acceptable) بن سکے۔ اس معاملے میں، میں نے اپنے مطالعے کے ذریعے جانا کہ اس اعتبار سے جو مسئلہ پیدا ہوا ہے، وہ بنیادی طور پر یہ ہے کہ لمبے فکری عمل کے بعد آج کے انسان کا ذہنی شاکلہ (framework) بدل گیا ہے۔ یہ تبدیلی بنیادی طور پر دو چیزوں میں ہوئی ہے : 1- روایتی معیار کی جگہ سائنسی معیار کا ظہور میں آنا۔ 2- حاکمانہ معیار کے بجائے جمہوری معیار کا رواج۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues

Printed page