Al-Risala · November 2011 · page 23

The Quran has to be re-revealed today.

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۳

میں نے اپنے مطالعے کے دوران پایا کہ موجودہ زمانے میں مسلم مصنفین کا پیدا کردہ لٹریچر ہے، وہ جدید سائنٹفک معیار پر پورا نہیں اترتا۔ موجودہ دست یاب لٹریچر روایتی زبان میں لکھا گیا ہے۔ وہ اُس سائنٹفک زبان میں نہیں لکھا گیا ہے جو موجودہ زمانے میں قبولیت کا درجہ حاصل کئے ہوئے ہے۔ اس طرح، کتاب اور قاری کے درمیان جو ذہنی بُعد (intellectual gap) پیدا ہوگیا ہے، اس کا نتیجہ ہے کہ یہ لٹریچر جدید ذہن کو ایڈریس نہیں کرتا۔

یہی معاملہ دوسرے پہلو کا ہے۔ مسلمانوں کا موجودہ ذہن، قدیم بادشاہی نظام کے تحت بنا ہے، اس لیے وہ اسلام کو جمہوری انداز میں پیش کرنے سے عاجز رہ گئے۔ چناں چہ ان مسلمانوں کی باتیں اِس جدید ذہن کو اپیل نہیں کرتیں جو چیزوں کو صرف اُس وقت سمجھ پاتا ہے، جب کہ وہ جمہوری انداز میں پیش کی گئی ہوں۔ مثلاً خلافت کا روایتی تصور قدیم شاہی ذہن کے لیے تو قابلِ تصور تھا، لیکن جدید جمہوری ذہن کے لیے وہ قابلِ فہم نہیں۔ اسی طرح توہینِ اسلام کے نام پر قتل کی سزا دینا جدید ذہن کے لیے نا قابل فہم ہے، کیوں کہ جدید ذہن اِس طرح کی ”گستاخی‘‘ کے تصور سے نا آشنا ہے۔ وہ صرف یہ جانتا ہے کہ اظہارِ خیال کی آزادی (freedom of expression) انسان کا ایک ایسا حق ہے جس کو کسی بھی عذر کی بنا پر منسوخ نہیں کیا جاسکتا۔

یہی معاملہ مسلح جہاد (armed struggle) کا ہے۔ موجودہ زمانے میں صرف پرامن جدوجہد (peaceful struggle) کو قابلِ قبول سمجھا جاتا ہے۔ حق کے حصول کے لیے پرامن جدوجہد پوری طرح درست ہے، لیکن مسلح جدوجہد کسی بھی حال میں درست نہیں۔ ان اسباب کی بنا پر آج کے انسان کو وہ لٹریچر اپیل نہیں کرتا جو جمہوریت کی شرطوں پر پورا نہ اترتا ہو۔ لٹریچر کے اعتبار سے اسلامی تاریخ کے تین بڑے دور ہیں۔ پہلا دور، رسالت اور صحابہ کا دور ہے۔ یہ دور ساتویں صدی عیسوی سے تعلق رکھتا ہے۔ اس دور میں اسلام کا مستند (authentic) یا کلاسکل لٹریچر (classical literature) وجود میں آیا۔ یہ لٹریچر عربی زبان میں ہے، اور قرآن اور حدیث اور سیرتِ رسول اور سیرتِ صحابہ پر مشتمل ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues

Printed page