Al-Risala · November 2011 · page 24

The Quran has to be re-revealed today.

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۴

دوسرا دور وہ ہے جو عباسی سلطنت کے زمانے میں شروع ہوا اور عثمانی سلطنت اور مغل سلطنت کے زمانے تک جاری رہا۔ یہ دور آٹھویں صدی عیسوی سے لے کر اٹھارھویں صدی عیسوی تک پھیلا ہوا ہے۔ یہی وہ دور ہے جس میں اسلام کے مختلف پہلوؤں پر کثیر تعداد میں کتابیں لکھی گئیں، جو آج اسلامی کتب خانے کا تاریخی حصہ ہیں۔ یہ تمام کتابیں قبل از سائنس دور (pre-scientific era) میں لکھی گئیں ۔ چناں چہ یہ کتابیں قدیم روایتی اسلوب میں ہیں، نہ کہ جدید سائنسی اسلوب میں۔ تیسرا دور وہ ہے جو مغرب کے نو آبادیاتی نظام کے زمانے میں ظہور میں آیا۔ یہ دور انیسویں صدی عیسوی اور بیسویں صدی عیسوی کے زمانے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس تیسرے دور میں پرنٹنگ پریس وجود میں آچکا تھا اور کاغذ سازی کی جدید صنعت قائم ہو چکی تھی۔ چناں چہ اس زمانے میں ہزاروں کی تعداد میں اسلامی تعلیمات کے بارے میں کتابیں لکھی اور چھاپی گئیں۔ یہ کتابیں عربی کے علاوہ دوسری مختلف زبانوں میں تھیں۔

مگر تیسرے دور کی کتابیں بھی عملاً دوسرے دور کی کتابوں کا امتداد (extention) بن گئیں، یعنی تحریر اور استدلال کا جو روایتی اسلوب دوسرے دور میں قائم ہوا، وہی بڑی حد تک، تیسرے دور میں بھی جاری رہا۔ تیسرا دور تحریر اور استدلال کے اسلوب کے اعتبار سے وہ دور تھا جس کو سائنسی دور کہا جاتا ہے، مگر تیسرے دور کی کتابیں بھی عملاً دوسرے دور کی کتابوں میں اضافے کے ہم معنی بن گئیں۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ دوسرے دور میں تیار کی ہوئی کتابیں قلمی کتابیں ہوا کرتی تھیں، جب کہ تیسرے دور کی کتابیں مطبوعہ کتابوں کی صورت میں سامنے آئیں۔

شاہ ولی اللہ دہلوی اٹھارھویں صدی عیسوی کے مشہور عالم ہیں۔ ان کی وفات 1762 میں ہوئی ۔ اسلامی عقلیات کے موضوع پر ان کی کتاب ’حجۃ اللہ البالغہ ایک اہم کتاب سمجھی جاتی ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ حجۃ اللہ البالغہ تیسرے دور کے آغاز میں لکھی گئی ، مگر وہ پوری طرح روایتی فریم ورک کے مطابق لکھی گئی ۔ اس اعتبار سے وہ دوسرے دور ہی کی ایک تکرار تھی۔ موجودہ زمانے میں اس موضوع پر جو کتابیں لکھی گئیں، اُن میں سے ایک کتاب الجزائری عالم

‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues

Printed page