The Bible, the Quran, and Science
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۵
شیخ محمد حسین الجسر (وفات: 1909) کی کتاب: الرّسالة الحميدية في حقيقة الدّيانة الإسلامية ہے۔ اس کتاب کو مزید اضافے کے ساتھ ان کے صاحب زادے شیخ ندیم حسین الجسر (وفات: 1980) نے شائع کیا ہے۔ اس دوسری کتاب کا نام یہ ہے: قصة الإيمان بين الفلسفة والعلم والقرآن (1961)۔ یہ کتاب پوری کی پوری فلسفیانہ پیٹرن پر لکھی گئی ہے، نہ کہ سائنٹفک پیٹرن پر۔ اس لیے وہ عصرِ حاضر میں اسلام کی ضرورت کو پورا نہیں کرتی۔ اس موضوع پر ایک اور کتاب ڈاکٹر محمد اقبال (وفات: 1938) کی ہے۔ یہ کتاب مصنف کے مختلف خطبات پر مشتمل ہے۔ وہ پہلی بار 1930 میں چھپی تھی۔ اس کتاب کا نام یہ ہے: The Reconstruction of Religious thought in Islam. ڈاکٹر اقبال کی یہ کتاب بھی فلسفیانہ پیٹرن پر لکھی گئی ہے، اس لیے اس کا معاملہ بھی سابقہ کتاب جیسا ہے۔ وہ عصرِ حاضر میں اسلام کی دعوتی ضرورت کو پورا نہیں کرتی۔ میرے علم کے مطابق ، غالباً صرف ایک کتاب ہے جو براہِ راست طور پر اس موضوع سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ کتاب اصلاً فرانسیسی زبان میں لکھی گئی تھی۔ اس کتاب کے مصنف فرانس کے ڈاکٹر موریس بکائی (Maurice Bucaille) ہیں۔ یہ کتاب پہلی بار 1975 میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کا نام یہ ہے:
The Bible, the Quran, and Science
مگر یہ کتاب بھی اصل ضرورت کو پورا نہیں کرتی۔ اس کتاب میں قرآن کے صرف ایک پہلو پر کچھ شواہد پیش کئے گئے ہیں ۔ وہ دینِ اسلام کا سائنسی تعارف نہیں ۔ اس اعتبار سے اس کتاب کو زیادہ سے زیادہ اسلام کی ایک جُزوی خدمت کہا جا سکتا ہے۔
جیسا کہ عرض کیا گیا، راقم الحروف نے عصری اسلوب میں اسلام کے تعارف کو اپنا خصوصی موضوع بنایا۔ میری تمام کتابیں، براہِ راست یا بالواسطہ طور پر، اسی موضوع سے متعلق ہیں۔ میں اپنے بارے میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اپنی پوری زندگی اسی کام پر وقف کردی۔ میرے نزدیک اس
‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues