Al-Risala · November 2011 · page 26

The Bible, the Quran, and Science

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۶

موضوع کے بنیادی طور پر دو پہلو ہیں — سائنسی اسلوب میں اسلامی تعلیمات کی تبیین، جدید علمی دریافتوں کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کو مدلّل انداز میں پیش کرنا۔

مثال کے طور پر، ’تذکیر القرآن‘ اور ’مطالعہ سیرت‘ پہلی قسم کی کتب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اور ’مذہب اور جدید چیلنج‘ اور ’عقلیاتِ اسلام‘ کو دوسری نوعیت کی کتابوں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ میری تقریباً تمام کتابیں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر انھیں دونوں پہلوؤں کی مثالیں ہیں۔ سائنٹفک اسلوب کیا ہے، اس کو ایک لفظ میں، مبنی بر حقیقت اسلوب کہا جاسکتا ہے، یعنی حقیقت نگاری کا اسلوب۔ پرنٹنگ پریس کے زمانے میں تصنیف و تالیف کا رواج بہت زیادہ بڑھا اور کثیر تعداد میں کتابیں شائع ہوئیں، لیکن یہ تمام کتابیں قدیم روایتی اسلوب میں تھیں۔ قدیم روایتی اسلوب میں مسجّع اور مقفّیٰ (rhymed) عبارتیں، تمثیلی استدلال، خطیبہ نہ نثر، انشائیہ اسلوب، شاعرانہ اندازِ تحریر اور ادبی طرزِ نگارش کا رواج تھا۔ یہی اسلوب موجودہ زمانے میں بھی کم وبیش جاری رہا۔ جدید دور میں سائنس کے زیرِ اثر مذکورہ اسالیب متروک ہوگئے۔ جدید سائنس، حقائق کے مطالعے کا نام تھی، اس لیے یہی اسلوب دیگر تصنیفی شعبوں میں بھی رائج ہوگیا۔ اس اسلوب کو ترتیبِ حقائق (arrangement of facts) کہا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر موجودہ زمانے میں برٹرینڈ رسل کی کتابیں اسی سائنٹفک اسلوب کا ایک نمونہ ہیں۔ راقم الحروف نے اِسی اسلوب کو اسلام کے تعارف کے لیے اپنایا۔ جہاں تک سائنٹفک اسلوب کے دوسرے پہلو کی بات ہے، یعنی اسلام کی توضیح و تفہیم میں سائنسی دلائل کو استعمال کرنا، اس کو دوسرے لفظوں میں، اسلام کا جدید علم کلام (modern theology) بھی کہا جاسکتا ہے۔ قدیم علمِ کلام، روایتی استدلال اور یونانی منطق پر قائم تھا۔ جدید علمِ کلام وہ ہے جو سائنسی استدلال پر قائم ہو۔ سائنسی استدلال سے مراد ہے — جدید دریافت شدہ حقائق کی روشنی میں اسلام کے عقائد کو مدلّل کرنا۔

راقم الحروف نے اس اعتبار سے متعدد کتابیں تیار کیں۔ ان میں سے ایک کتاب وہ ہے جس کا اردو ٹائٹل ’مذہب اور جدید چیلنج‘ ہے۔ وہ مختلف ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں شائع ہوچکی ہے۔ عربی زبان میں اس کا

‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues

Printed page