The Bible, the Quran, and Science
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۷
ٹائٹل ’الاسلام یتحدی‘ ہے۔ اور انگریزی زبان میں اس کا ٹائٹل گا ڈار ائز ز (God Arises) ہے۔ سائنس کی جدید دریافتوں کی بنیاد پر کلامیاتی استدلال کی ایک مثال وہ ہے جس کو ضابطۂ نا کارگی (Law of entropy) کہا جاتا ہے۔ اس دریافت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مادی کائنات ازلی نہیں ہوسکتی۔ قدیم یونانی فلاسفہ مادہ (matter) کو قدیم مانتے تھے۔ اس کے زیر اثر مسلم فلسفی ابنِ رشد (وفات: 1198ء) نے مادہ کو قدیم مان لیا۔ مگر مادہ کی قدامت کا نظریہ اسلامی عقیدے سے ٹکراتا ہے۔ کیوں کہ اس کے مطابق، خدا اور مادہ دونوں قدیم ہو جاتے ہیں، جب کہ اسلامی عقیدہ کے مطابق، خدا قدیم اور ازلی ہے، اور مادہ بعد کی تخلیق۔ یہ جدید دریافت اسلامی عقیدے کے حق میں سائنسی تصدیق (scientific affirmation) کی حیثیت رکھتی ہے۔ ضابطۂ نا کارگی کے قانون کی تفصیل راقم الحروف کی کتاب ’مذہب اور جدید چیلنج‘ کے باب ’’کائنات میں خدا کی گواہی‘‘ کے تحت دیکھا جا سکتا ہے۔ (صفحہ 55)۔
اوپر کی بات نظریاتی اعتبار سے ذہنی فریم ورک سے تعلق رکھتی ہے۔ اب اس معاملے کے دوسرے پہلو کو لیجیے، یعنی وہ مسئلہ جس کو عملی فریم ورک کہا جا سکتا ہے۔ اس دوسرے معاملے میں مسلمان موجودہ زمانے میں اتنے اجنبی ہو گئے ہیں کہ موجودہ زمانے کے تعلیم یافتہ لوگوں کو وہ آج کی دنیا کے لیے ناموزوں (misfit) نظر آتے ہیں۔
اس کا سبب کیا ہے۔ میرے مطالعے کے مطابق، اس کا سبب دوبارہ یہ ہے کہ اس معاملے میں بھی دوسرے دور کا فریم ورک تیسرے دور میں بھی بدستور جاری رہا۔ حالاں کہ تیسرے دور میں ضرورت تھی کہ اس پہلو سے قدیم ڈھانچے پر نظر ثانی کی جائے اور اس کو جدید مسلم ڈھانچے کے مطابق بنایا جائے۔ اس نظر ثانی کا تعلق عقائد میں نظر ثانی سے نہیں ہے، بلکہ منہاج (method) میں نظر ثانی سے ہے۔ عقائد ہمیشہ ابدی ہوتے ہیں، ان میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔ مگر منہاج (method) کا تعلق حالات سے ہے۔ فقہ کا مسلمہ اصول اسی منہاج کے پہلو سے ہے۔ وہ فقہی اصول یہ ہے کہ: تتغیر الأحكام بتغيّر الزمان والمكان (زمان اور مکان کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں)۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues