The Bible, the Quran, and Science
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۸
مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بار بار مخالف گروپ کی طرف سے قتال کا چیلنج پیش آیا، مگر آپ نے اس کے جواب میں مختلف رویہ اختیار کیا۔
مثال کے طور پر کی حالات میں آپ نے ہجرت کا طریقہ اختیار فرمایا، یعنی ٹکراؤ کے مقام کو چھوڑ دینا۔ غزوہ احزاب کے موقع پر آپ نے خندق (trench) کا طریقہ اپنایا، یعنی اپنے اور مخالف کے درمیان یک حاجز (buffer) قائم کر دینا۔ اسی طرح حدیبیہ کے موقع پر آپ نے ٹکراؤ سے اعراض کرنے کے لیے فریق مخالف کی ایک طرفہ شرطوں کو قبول کرتے ہوئے اُن سے صلح کرلی، وغیرہ۔ جمہوریت (democracy) کا تعلق عملی معاملات سے ہے۔ اور اجتماعی نوعیت کے مشترک معاملات میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ اس طرح کے معاملات میں جو صورت حال پیش آتی ہے، وہ نہ خیر مطلق ہوتی ہے اور نہ شر مطلق، بلکہ اُن میں دونوں قسم کے پہلو شامل رہتے ہیں۔ اس لیے اس طرح کے کسی معاملے کو آئیڈیل کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ عملی افادیت کے نقطہ نظر سے دیکھنا چاہیے۔ اس طرح کے کسی معاملے میں بہترین اصول یہ ہے کہ مسائل کو نظر انداز کرو، اور مواقع کو استعمال کرو: Ignore the problems, avail the opportunities. موجودہ زمانے میں مسلم رہنماؤں نے قربانی کی حد تک غیر معمولی سرگرمیاں دکھائیں، لیکن ان سرگرمیوں کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ یہ رہنما اپنی سرگرمیوں میں مذکورہ حکمت کو ملحوظ نہ رکھ سکے۔ وہ ہر جگہ مسائل سے ٹکراتے رہے، اور مبنی بر مواقع منصوبہ بندی (opportunity-based planning) کا طریقہ اختیار کرنے میں ناکام رہے۔
پچھلے دو سو سال کے درمیان مسلم دنیا میں جو سرگرمیاں جاری رہی ہیں، ان کو سامنے رکھیے تو معلوم ہوگا کہ اس پوری مدت میں مسلم رہنما ٹکراؤ کے اصول پر عمل کرتے رہے۔ ہر مقام پر انھوں نے ایک مسئلہ (problem) دریافت کیا اور اس پرابلم سے ٹکرانے میں اپنی ساری طاقت صرف کردی۔ اُن کی سوچ یہ تھی کہ جب تک یہ پرابلم ختم نہ ہو، اُس وقت تک کوئی مثبت کام نہیں کیا جاسکتا۔ کہیں یہودی پرابلم، کہیں برٹش پرابلم، کہیں امریکن پرابلم، کہیں نو آبادیاتی پرابلم، کہیں ہندو پرابلم، کہیں ظالم
‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues