The Bible, the Quran, and Science
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۹
حکومت کا پرابلم، کہیں کوئی اور پرابلم، یہی ہر جگہ مسلم رہنماؤں کا نشانہ عمل بنار ہا۔ اس طریق کار کی بنیادی غلطی یہ تھی کہ وہ خدا کے تخلیقی نقشے کے خلاف تھا۔ خدا نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق، موجودہ دنیا میں انسان کو مکمل آزادی عطا فرمائی ہے۔ انسان کو اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرنے کا بھی اختیار ہے، اور اس کو یہ بھی اختیار ہے کہ وہ اپنی خداداد آزادی کو غلط طور پر استعمال کرے ۔ انسان کی اس آزادی کو صرف قیامت منسوخ کرے گی۔ اس سے پہلے کوئی شخص اس کو منسوخ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ موجودہ دنیا کے تمام مسائل اسی انسانی آزادی کے غلط استعمال سے پیدا ہوتے ہیں۔ چوں کہ ہم انسان کی آزادی کو منسوخ نہیں کر سکتے، اس لیے ہم یہ بھی نہیں کر سکتے کہ اُن چیزوں کو دنیا سے ختم کر دیں جن کو ہم اپنے لیے قومی یا سیاسی مسئلہ سمجھتے ہیں۔ خدا کے قائم کردہ اس تخلیقی نقشے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں ہمارے لیے جو انتخاب (choice) ہے، وہ صحیح (right) اور غلط (wrong) کے درمیان نہیں ہے، بلکہ یہ انتخاب چھوٹے شر (lesser evil) اور بڑے شر (greater evil) کے درمیان ہے۔ کسی صورت حال میں ہمارے عمل کی منصوبہ بندی اس تصور کے تحت نہیں ہو سکتی کہ ہم یہ دیکھیں کہ اصولی اعتبار سے درست کیا ہے اور نا درست کیا ، اور پھر جو چیز ہمیں اصولی طور پر درست نظر آئے، اس کو حاصل کرنے کے لیے ہم پر شور جد و جہد شروع کر دیں ۔ اس کے بجائے یہ ہونا چاہیے کہ ہم یہ دیکھیں کہ عملی اعتبار سے جو دو انتخاب ہمارے لیے ممکن ہیں ، اُن میں سے کون سا انتخاب اہون (easier) ہے اور کون ساغیر اہون (non-easier)۔ اسی اصول کو فقہ میں اهون البليتين کہا جاتا ہے، یعنی دو مصیبتوں میں سے آسان (easier) مصیبت۔
یہ فطرت کا اصول ہے۔ اس اصول کو اختیار کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ ہر صورت حال میں آدمی کو بلا تاخیر اپنے عمل کے لیے ایک نتیجہ خیز نقطه آغاز (starting point) مل جاتا ہے، اور کسی صورت حال میں حقیقی نقطہ آغاز کا ملنا کامیابی کی یقینی ضمانت ہے۔ اس پالیسی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کسی مزید نقصان میں مبتلا ہوئے بغیر نتیجہ خیز عمل شروع کر دیتا ہے اور آخر کار وہ اپنے مطلوب تک پہنچ جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں حالات مکمل طور پر بدل چکے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ منہاج کے
‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues