Al-Risala · November 2011 · page 30

The Bible, the Quran, and Science

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۳۰

معاملے میں نئے ماڈل کو اختیار کیا جائے۔ یہ ماڈل اصولی طور پر نتیجہ (result) کی بنیاد پر ہوگا، یعنی جو ماڈل اسلام کے لیے بہ اعتبار نتیجہ مفید ہو، اس کو اختیار کرنا اور اُس ماڈل کو چھوڑ دینا جو نتیجے کے اعتبار سے کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہونے والا ہو۔

اس اعتبار سے موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ جدید جمہوری ماڈل کو اختیار نہ کر سکے۔ وہ جدید جمہوری نظام میں بھی قدیم حاکمانہ ماڈل پر قائم رہنا چاہتے ہیں، حالاں کہ جدید حالات میں عملاً یہ ممکن ہی نہیں۔ اس قسم کے اصرار کا نتیجہ صرف دو صورتوں میں برآمد ہوگا۔ یا تو مسلمان ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کریں جو بلاشبہ خود کشی کے ہم معنی ہے، یا پھر وہ منافق بن جائیں، یعنی اپنی ذہنی سوچ کے اعتبار سے وہ حاکمانہ ماڈل کو اپنائے ہوئے ہوں اور عملی اعتبار سے مصلحت کا انداز اختیار کر کے وہ اپنے مادی مفاد کو بچانے کی کوشش کریں۔

اس معاملے میں تفصیلی مطالعے کے بعد میں نے کئی کتابیں لکھیں۔ میں نے اپنی کتابوں میں بتایا کہ جمہوری ماڈل اگرچہ بہ ظاہر ایک نیا ماڈل ہے، لیکن اُس میں اور اسلام کی حقیقی تعلیمات میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ ہم اپنی اسلامی حیثیت کو پوری طرح باقی رکھتے ہوئے جمہوری نظام میں اپنے آپ کو شامل کر سکتے ہیں۔ یہاں میں چند مثالوں کی روشنی میں اس کو واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔ موجودہ زمانے میں جن چیزوں کی بنا پر اسلام کے بارے میں یہ عالمی تاثر قائم ہو گیا ہے کہ اسلام جدید حالات کا ساتھ نہیں دیتا، اسلام جدید دور کے لیے ایک غیر متعلق مذہب ہے۔ یہ تاثر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی قومی روش کی بنا پر قائم ہوا ہے، نہ کہ اسلام کی اصل تعلیمات کی بنا پر۔ 1۔ مثال کے طور پر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا یہ کہنا ہے کہ وہ اپنے رسول کی شان میں ’’گستاخی‘‘ کو برداشت نہیں کر سکتے۔ اپنے مذہبی عقیدے کی بنا پر ان کے اوپر فرض ہے کہ وہ ایسے انسان کو قتل کر ڈالیں۔ مسلمانوں کا یہ نظریہ دورِ جدید کے تصورات سے ٹکراتا ہے۔ کیوں کہ موجودہ زمانے کا یہ مسلمہ ہے کہ ہر شخص کو پر امن اظہارِ رائے کی آزادی ہے۔ اس آزادی کو کسی بھی حال میں ساقط نہیں کیا جاسکتا۔ مگر یہ ٹکراؤ جدید دور اور مسلم تصورات کے درمیان ہے، نہ کہ جدید دور اور اصل

‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues

Printed page