Al-Risala · November 2011 · page 31

The Bible, the Quran, and Science

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۳۱

اسلامی تعلیمات کے درمیان۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں بھی اظہار خیال کی آزادی اسی کامل درجے میں دی گئی ہے جس کو جدید دور کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ اس معاملے کی تفصیل راقم الحروف کی کتاب ’شتم رسول کا مسئلہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔

2۔ یہی معاملہ سیکولرازم کا ہے۔ موجودہ زمانے میں سیکولرازم کو اسٹیٹ پالیسی کا معیاری ماڈل سمجھا جاتا ہے۔ مگر موجودہ زمانے کے اسلام پسند مسلم رہنماؤں نے یہ اعلان کیا کہ سیکولرازم، اسلام کے سراسر خلاف ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم سیکولر نظام کے خلاف لڑ کر اس کا خاتمہ کریں۔ لیکن یہ ٹکراؤ بھی جدید دور اور مسلمانوں کے درمیان ہے، نہ کہ جدید دور اور اسلام کے درمیان۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام خود بھی مشترک سماج کے لیے اسی طرح سیکولر پالیسی کا حامی ہے، جس طرح جدید دور میں سمجھا جاتا ہے۔ اس مسئلے کی تفصیل راقم الحروف کی کتاب ’دین کامل میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اسی طرح کا ایک معاملہ وہ ہے جو جمہوریت (democracy) سے تعلق رکھتا ہے۔ موجودہ زمانے کے اسلام پسند مسلم لیڈروں نے اعلان کیا کہ جمہوریت ایک غیر اسلامی نظریہ ہے، اس لیے وہ مسلمانوں کے لیے قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ دوسری طرف، جدید تعلیم یافتہ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ جمہوریت کا ماڈل سب سے بہتر سیاسی ماڈل ہے۔ مگر یہ ٹکراؤ بھی جدید ذہن اور موجودہ مسلمانوں کے درمیان ہے، نہ کہ جدید ذہن اور اصل اسلام کے درمیان۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام خود بھی سیاسی تنظیم کے لیے جمہوری طریقے کا حامی ہے۔ اسلام میں تھیا کریٹک اسٹیٹ (theocratic state) کا تصور نہیں۔ اسلام مکمل طور پر جمہوری نظام کا قائل ہے، یعنی عوام کی رائے کے مطابق، سیاسی نظام کی تشکیل۔ اس موضوع کی وضاحت میں نے اپنی مختلف کتابوں میں کی ہے۔ مثلاً فکر اسلامی اور ’مسائل اجتہاد وغیرہ۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جہاں تک عقیدہ اور عبادت کا تعلق ہے، اس معاملے میں اسلام کی تعلیمات مطلق حکم کی حیثیت رکھتی ہیں۔ لیکن جہاں تک اجتماعی نظام کا معاملہ ہے، اس کا کوئی مطلق معیار نہیں۔ اجتماعی نظام کا معاملہ عوام کی اجتماعی صورتِ حال پر منحصر ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: كما تكونون كذلك يؤمر عليكم (البيهقي، رقم الحديث : 6896) یعنی

‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues

Printed page