Al-Risala · November 2011 · page 32

The Ideal can not be achieved in this world.

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۳۲

جیسے تم ہوگے، ویسے ہی تمھارا حکومتی نظام ہوگا۔

اجتماعی نظام کے معاملے میں اسلام کا اصول اس پر مبنی ہے کہ عوام یا معاشرہ کی استعدادِ قبولیت کس درجے کی ہے۔ عوام کے اندر جن اجتماعی احکام کی قبولیت کی استعداد ہوگی، اُن کو آغاز میں نافذ کیا جائے گا، لیکن جن احکام کی قبولیت کی استعداد عوام کے اندر موجود نہ ہوگی، اُن احکام کی تنفیذ کا آغاز خود قانون کے نفاذ سے نہ ہوگا، بلکہ ذہن سازی کے عمل سے ہوگا۔ اسلام کے اس اصول کو تدریج کا اصول کہہ سکتے ہیں، یعنی عوام کی استعداد کے مطابق، احکام کا تدریجی نفاذ، نہ کہ ان کا بہ یک وقت نفاذ۔ موجودہ دنیا چوں کہ امتحان کی مصلحت کے تحت بنائی گئی ہے، اس لیے یہاں انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے۔ یہ آزادی خود خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق ہے، اس لیے کوئی بھی طاقت اس کو منسوخ نہیں کر سکتی۔ تجربہ ہے کہ انسان زیادہ تر اس آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ اسی بنا پر ایسا ہوا کہ تاریخ میں کبھی معیاری نظام نہ بن سکا، اور نہ آئندہ اس کا کوئی امکان ہے۔ مومن اور غیر مومن دونوں مجبور ہیں کہ اس غیر معیاری دنیا میں وہ اپنی زندگی کا نقشہ بنائیں۔ اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ — اس دنیا میں معیار کبھی حاصل نہیں ہو سکتا:

The Ideal can not be achieved in this world.

اس صورت حال کی بنا پر اسلام کا اصول یہ ہے کہ معیار کے حصول کے لیے جنگ نہ کی جائے، بلکہ کسی صورتِ حال میں عملی طور پر جو ممکن ہو، اس کو مان کر اپنی زندگی کا نقشہ بنایا جائے۔ اس اصول کا فائدہ یہ ہے کہ آدمی کو ہر صورتِ حال میں فورا ہی ایک نقطۂ آغاز (starting point) مل جاتا ہے۔ ہر صورتِ حال میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی فوری طور پر اپنے عمل کا نقشہ بنائے، تا کہ جو کچھ آج قابلِ حصول نہ تھا، وہ مستقبل میں قابلِ حصول ہو جائے۔

ضروری اعلان اور اُس کا سالانہ زرِ تعاون -/150 روپے ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues

Printed page