Al-Risala · November 2011 · page 39

سوال وجواب

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۳۹

اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ آج ہم امت کے مابعد زمانے میں ہیں۔ امت کے مابعد زمانے کے بارے میں کثرت سے حدیثیں آئی ہیں، جن میں یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ بعد کے زمانے میں امت عمومی طور پر دینی انحراف کا شکار ہو جائے گی۔ چناں چہ احادیث میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب امت پر ایسا وقت آ جائے تو اُس وقت ضرورت ہوگی کہ امت کے اندر اصلاح اور تجدید کا کام کیا جائے۔ اس حقیقت کو دوسرے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ بعد کے زمانے میں امت کی حیثیت بھی دوسرے مدعو گروہوں کی طرح ایک مدعو گروہ کی ہو جائے گی۔ اور یہ واضح ہے کہ جب امت خود ایک مدعو گروہ کی حیثیت اختیار کر لے تو اُس وقت اصل کام امت کی حمایت کرنا نہیں رہتا، بلکہ اصل کام یہ ہوتا ہے کہ امت کو دوبارہ اصل دین خداوندی پر لایا جائے۔ انحراف کے اس مرحلے میں، امت کے مزاج کی رعایت کرنا، امت کی اصلاح کے کام کو معطل کرنے کے ہم معنی ہے جو یقینی طور پر درست نہیں۔ سوال: دعوت الی اللہ یہ ہے کہ علماءِ متقدمین کی قدیم اسلامی کتابوں کو لوگوں تک پہنچایا جائے ۔ قدیم کتابوں کے ترجمے دوسری زبانوں میں کئے جائیں۔ قدیم کتابیں پہلے بھی دین کی تبیین کے لیے کافی تھیں اور آج بھی وہ دین کی تبیین کے لیے کافی ہیں۔ دعوت الی اللہ کے کام کے لیے ہمیں کسی نئے دعوتی لٹریچر کی ضرورت نہیں۔

جواب: دین کی خدمت کے لیے دو قسم کا لٹریچر مطلوب ہے۔ ایک، وہ کتاب جس میں دینی احکام کا بیان ہو۔ دوسری کتابیں وہ ہیں جن کو داعی اپنے معاصر ذہن کو خطاب کرنے کے لیے استعمال کرے۔ جہاں تک پہلی ضرورت کا تعلق ہے، اُس کے لیے قدیم کتب مفید ہیں۔ دین کی اساسی تعلیمات کو جاننے کے لیے علماءِ متقدمین کی کتابیں بلاشبہ پہلے ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اِس معاملے میں دوسرا کوئی بھی لٹریچر ان کتابوں کا بدل نہیں بن سکتا۔

مگر دعوت الی اللہ کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ دعوت کے عمل میں صرف یہ مطلوب نہیں ہوتا کہ احکام دین کو اپنی ابتدائی شکل میں بیان کر دیا جائے، بلکہ اس مقصد کے لیے لازمی طور پر یہ ضروری ہوتا ہے کہ مدعو کے ذہن کو سمجھا جائے اور مدعو کے قابلِ فہم اسلوب میں اس کو بیان کیا جائے۔ یہی وہ

‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues

Printed page