Al-Risala · November 2011 · page 40

سوال وجواب

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۴۰

دعوتی ضرورت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وقل لھم فی أنفسھم قولاً بلیغاً (63 : 4) یعنی تم اُن سے ایسی بات کہو جو اُن کے دلوں میں اتر جائے۔

مثال کے طور پر مدعو اگر عقلی اور منطقی اسلوب میں بات کو سمجھنا چاہتا ہو تو اس کے لیے تمثیلی اسلوب غیر مؤثر ہوگا۔ اِس طرح کے کیس میں داعی کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ تمثیلی اسلوب کے بجائے عقلی اور منطقی اسلوب میں اپنی بات کہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ مکمل طور پر بدلا ہوا زمانہ ہے۔ قدیم دور اگر روایتی اسلوب کا دور تھا تو جدید دور سائنٹفک اسلوب کا دور ہے۔ ایسی حالت میں، آج کے انسان کے سامنے مؤثر طور پر دین کا پیغام پہنچانے کے لیے یقینی طور پر ضروری ہے کہ جدید ذہن کی رعایت سے مثبت لٹریچر تیار کیا جائے۔ اور اگر کسی نے اِس طرح کا لٹریچر تیار کیا ہے تو اُس کو کسی تعصب کے بغیر استعمال کیا جائے ۔ اس معاملے میں ان دو کے سوا کوئی تیسری صورت ممکن نہیں۔

کشمیر میں رسالہ اور مطبوعاتِ حاصل کرنے کے لیے حسب ذیل پتے پر رابطہ کریں : ں مِس امنانِ روردگار زِمانہ مِں سَب سے جَدِید دَریافْت ہے ۔

بجنور (یوپی) میں رسالہ اور مطبوعاتِ الرسالہ حاصل کرنے کے لیے اس پتے پر رابطہ کریں: میں ایک رسالہ منگوانا چاہتا ہوں (پتہ نیچے ہے)

‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues

Printed page