مذہب اور عقلیات
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۱۵
اتنی زیادہ بامعنی ہے کہ وہ ال ٹپ (at random) طور پر وجود میں نہیں آسکتی، یقیناً وہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت وجود میں آئی ہے۔ سرجیمز جینز نے لکھا ہے کہ کائنات کا خالق ایک ریاضیاتی ذہن (mathematical mind) معلوم ہوتا ہے۔
ڈاکٹر عبدالسلام ایک پروفیشنل سائنٹسٹ تھے۔ نظریاتی فزکس (theoretical physics) میں انھوں نے کیمبرج یونی ورسٹی (لندن) سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔ جدید الہیات کے اعتبار سے اُن کا کام بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ جس ریسرچ پر اُن کو فزکس کا نوبل پرائز (1979) ملا، وہ الہیات کے اعتبار سے نہایت اہمیت کا حامل تھا۔ زیر نظر موضوع پر ڈاکٹر عبدالسلام کی ایک کتاب (Ideal and Realities) ہے، جو پہلی بار 1984 میں چھپی۔
سر آئزک نیوٹن (وفات: 1727) کے زمانے سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ چار بنیادی طاقتیں (forces) ہیں، جو پوری کائنات کو کنٹرول کرتی ہیں۔ آئن سٹائن (وفات: 1955) نے اس تعداد کو گھٹانا چاہا، لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکا۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے خالص ریاضیاتی بنیاد پر یہ ثابت کیا کہ کائنات کو کنٹرول کرنے والی طاقتیں چار نہیں ہیں، بلکہ تین ہیں۔ اس تحقیق پر اُن کو فزکس کا نوبل پرائز دیا گیا۔ بعد کو نظریاتی فرکس کے مشہور برٹش پروفیسر اسٹیفن ہاکنگ (پیدائش: 1942) نے اس تعداد کو مزید گھٹایا، اور یہ ثابت کیا کہ کائنات کو کنٹرول کرنے والی طاقت صرف ایک ہے۔ اس طاقت کو انھوں نے واحد ڈور (single string) کا نام دیا۔
اس طرح خالص سائنٹفک ریسرچ کے ذریعے یہ ثابت ہوا کہ کائنات میں تعدد (plurality) نہیں ہے، بلکہ توحید (oneness) ہے۔ گویا کہ کائنات کا نیچر موحدانہ (monotheistic) ہے، اس کا نیچر مشرکانہ (polytheistic) نہیں ہے۔ اس سائنٹفک تحقیق میں ڈاکٹر عبدالسلام کا بہت بڑا حصہ ہے۔ انھوں نے پہلی بار چار طاقتوں کے نظریے کو توڑا، اور سائنسی طور پر ایک طاقت کو ماننے کا راستہ ہموار کیا۔
سرجیمز جینز اور ڈاکٹر عبدالسلام، دونوں یہ صلاحیت رکھتے تھے کہ وہ سائنسی الہیات
‹ Previous page Next page › Contents of December 2011 All issues