Al-Risala · December 2011 · page 16

مذہب اور عقلیات

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۱۶

(scientific theology) کو مرتب کرنے کا عظیم کارنامہ انجام دیں۔ لیکن دونوں اس موضوع پر صرف جُزئی کام کر سکے، وہ اس موضوع کا تکمیلی باب نہ لکھ سکے۔ بظاہر دونوں کا عذر ایک تھا۔ دونوں ہی اپنی اکیڈمک سرگرمیوں اور پروفیشنل مشغولیت سے اتنا زیادہ وابستہ رہے کہ اُن کو سائنسی الہیات کے موضوع پر مزید کام کرنے کا موقع نہیں ملا۔ یہ موضوع، دوسرے تمام اہم موضوعات کی طرح، مکمل ڈیڈی کیشن (dedication) کا تقاضا کرتا ہے۔ دونوں میں سے کوئی بھی اس کام کی یہ ضروری قیمت نہ دے سکا۔ اس لیے دونوں میں سے ہر ایک اس کام کو انجام دینے سے قاصر رہا۔ اسلام کو عقلی بنیاد (rational basis) دینے کے لیے کچھ اور لوگوں نے کتابیں تصنیف کیں۔ لیکن اصل ضرورت کے اعتبار سے یہ کتابیں کسی حقیقی اہمیت کی حامل نہ تھیں۔ اصل مقصد جدید سائنٹفک مائنڈ کو ایڈریس کرنا تھا، مگر ان کتابوں سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوا۔ چند کتابوں کے نام یہ ہیں: 1- حجۃ اللہ البالغہ، شاہ ولی اللہ دہلوی 2- تشکیل جدید الہیات اسلامیہ، ڈاکٹر محمد اقبال (The Reconstruction of Religious Thought in Islam)

3- قصة الإيمان بين العلم والفلسفة والقرآن، شیخ ندیم الجسر 4- قرآن اور علمِ جدید، ڈاکٹر محمد رفیع الدین میں نے ان کتابوں کا، اور اس طرح کے دوسرے بہت سے مضامین اور مقالات کا مطالعہ کیا۔ مگر میں نے محسوس کیا کہ یہ تمام کتابیں اصل مسئلے کی نسبت سے بہت ناقص ہیں۔ وہ ایک طاقت ور چیلنج کا صرف کم زور جواب ہیں۔ یہاں پہنچ کر میرے اندر ایک نیا احساس جنم لینے لگا۔ میں نے کئی ایسے خواب دیکھے، جو اس بات کا اشارہ تھے کہ غالباً قضاء الہی کا یہ فیصلہ ہے کہ اپنی تمام کم زوریوں کے باوجود، میں اس خدمت کو انجام دوں۔

موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلم رہنما کسی نہ کسی ردِ عمل کے تحت اٹھے۔ ان کی زندگی کا کورس ردِ عمل کی نفسیات کے تحت بنا۔ مگر میرا معاملہ ایک استثنائی معاملہ تھا۔ کسی قسم کے رد عمل نے میری

‹ Previous page Next page › Contents of December 2011 All issues

Printed page