مذہب اور عقلیات
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۱۷
زندگی کا کورس متعین نہیں کیا، بلکہ فطرت کا ایک واقعہ تھا، جس نے میری زندگی کا رخ متعین کیا۔ یہ واقعہ 27 جولائی 1955 کو پیش آیا۔ اُس وقت میں اعظم گڑھ (یوپی) میں تھا۔ اس سال اُس علاقے میں نہایت شدید بارش ہوئی تھی۔ قریبی ندی ٹونس (Tons River) کا پانی پھیل کر شہر کی آبادی تک پہنچ گیا۔ برٹش دور میں یہاں 1871 میں شہر کے کنارے ایک بہت بڑا بند بنایا گیا تھا۔ یہی بند سیلاب سے حفاظت کا واحد ذریعہ تھا۔ مگر اس سال سیلاب کا پانی اتنا زیادہ بڑھا کہ لال ڈگی کا یہ بند اُس کو روکنے کے لیے ناکافی ثابت ہوا۔ یہ میرے لیے ایک بھیانک تجربہ تھا۔ اس تجربے کو میں نے اُسی زمانے میں قلم بند کیا تھا جو اخبار ’’دعوت‘‘ (نئی دہلی) کے شمارہ 5 ستمبر 1955 میں چھپا تھا۔ اُس میں، میں نے اپنے اس مشاہدے کو ان الفاظ میں لکھا تھا:
’’26 اور 27 جولائی 1955 کی درمیانی رات کو ضلع کلکٹر (اعظم گڑھ) کی طرف سے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے یہ اعلان ہوا — ’’لال ڈگی کا بند ابھی ٹوٹنا چاہتا ہے۔ آپ لوگ اپنی جانوں کو بچانے کے لیے اونچی جگہوں پر چلے جائیں‘‘۔ اُس رات کے ایک بجے تھے۔ سارا شہر جاگ اٹھا اور عجیب سنسنی پھیل گئی۔ لوگ اپنے کچے اور پکے گھروں سے نکل کر بند کی طرف ڈھوے۔ سیکڑوں آدمیوں نے پھاوڑا اور بوریا لے کر اُس جگہ مٹی ڈالنی شروع کردی، جہاں سے بند پھٹ گیا تھا۔ ایسے ایسے لوگ جنھوں نے شاید زمین پر کبھی ننگے پاؤں قدم بھی نہ رکھا ہوگا، وہ اپنے سروں پر مٹی کا ٹوکرا لے کر دوڑ رہے تھے۔ درجنوں پیٹرومیکس کی روشنی میں ساری رات کام ہوا اور دوسرے دن دوپہر تک ہوتا رہا۔ بالآخر انجینئر نے کہہ دیا کہ اب بند قابو سے باہر ہے۔ آخر کار بارہ بجے دن کے بعد بند ٹوٹ گیا اور پانی سڑکوں پر بہنے لگا۔ سارے شہر میں کہرام مچ گیا۔ دکانیں بند ہوگئیں۔ لوگ اپنے اپنے ٹھکانوں کی طرف بھاگ رہے تھے اور پانی ان کے پیچھے اس طرح دوڑ رہا تھا کہ گویا وہ اُن کا پیچھا کر رہا ہے۔ زندگی کے مسائل سمٹ کر بس سیلاب کے گرد جمع ہوگئے، اور چند دنوں کے لیے شہر میں قیامت کا منظر دکھائی دینے لگا۔ ‘‘ (قرآن کا مطلوب انسان، صفحہ 61)
فطرت کا یہ واقعہ میرے لیے قیامت کی یاد دہانی کے ہم معنی تھا۔ یہ گویا، بڑی قیامت سے پہلے
‹ Previous page Next page › Contents of December 2011 All issues