جنت: ایک آفاقی تصور
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۶
جنت: ایک آفاقی تصور
پیراڈائز (جنت) کا تصور تمام انسانی سماجوں میں پایا گیا ہے۔ پیراڈائز تمام عورتوں اور مردوں کا ایک عالمی خواب ہے۔ ہر انسان جو پیدا ہوتا ہے، وہ ایک خوب صورت دنیا کا تصور لے کر پیدا ہوتا ہے۔ اسی کو پیراڈائز کہا گیا ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انسان ایک متلاشی جنت حیوان (Paradise-seeking animal)ہے۔
مطالعہ بتاتا ہے کہ پیراڈائز کا تصور ہر سماج اور ہر کلچر میں ہمیشہ پایا گیا ہے۔ اس اعتبار سے پیراڈائز ایک عالمی لفظ ہے۔ معمولی تغیر کے ساتھ وہ ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔ قرآن کا لفظ فردوس (18: 107) بھی خود پیراڈائز ہی کی ایک معرّب (Arabicized) صورت ہے۔ ذیل میں چند زبانوں کی مثالیں درج کی جاتی ہیں، جس سے پیراڈائز کی عالمی نوعیت کا اندازہ ہوگا: پردہ دار ہیں، اس میں کوئی شک نہیں، اس کے پس منظر میں یہ بات ان دیکھی نہیں ہو سکتی Pairidaêza Persian : Firdaus Paradeisas Latin : Paradisus Paradis English : Paradise Pardes Akkadian : Pardesu Pardaysa Sanskrit : Paradesha Firdaus سرڈائن (جنت) کا تصور اور انگریزی لفظ پیر ڈائیز (Paradise) کا مآخذ یہی ہے Avesta :
Greek :
French :
Hebrew :
Aramaic :
Arabic :
کے دونوں لفظوں کو ایک
پیراڈائز (جنت) کا تصور انسانی فطرت میں اتنا زیادہ پیوست ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے سے جُدا نہیں کیا جا سکتا۔ پیراڈائز کو پانا، ہر عورت اور مرد کا مشترک خواب ہے، خواہ شعوری طور پر ہو یا غیر شعوری طور پر۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر عورت اور مرد نے عالَمِ تصور میں ایک انتہائی خوب صورت دنیا کو پہلے سے دیکھا ہے، اور اب وہ اس دیکھی ہوئی جنت کو عملی طور پر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انسان کی اِس خواہش کے تحت، پیراڈائز کے تقریباً ایک درجن ماڈل بن گئے ہیں۔ ہر انسان اپنے اِس معلوم ماڈل کو داس کے لئے مل، پیرار اور زبیا ایک دوسری ماں کے روپ میں ہیں۔ ( واقعاتی طور پر حاصل کرنے میں لگا ہوا ہے۔
الریہ، دسمبر 2011
‹ Previous page Next page › Contents of December 2011 All issues