Al-Risala · December 2011 · page 27

بدھسٹ ماڈل

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۷

پیراڈائمز کا مطالعہ میری پوری زندگی میں شامل رہا ہے۔ تاریخ میں پیراڈائمز کے جتنے ماڈل بنائے گئے ہیں، تقریباً اُن سب کو میں نے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ میں نے اپنے طویل مطالعے اور تجربے کے بعد پایا ہے کہ پیراڈائمز کا صرف وہی ماڈل مطابق فطرت ماڈل ہے جو قرآن میں ملتا ہے۔ بقیہ تمام ماڈل یا تو فطرت سے مطابقت نہیں رکھتے، یا وہ صرف جزئی طور پر فطرت کے مطابق ہیں۔ اور یہ دونوں حالتیں اُن کو ناقابل قبول قرار دے دیتی ہیں۔

اِس فہرست میں صرف قرآن کا ماڈل واحد قابلِ قبول ماڈل ہے۔ اِسی لیے قرآن میں سُچے انسانوں کی بابت یہ ارشاد ہوا ہے کہ خدا اُن کو ایسی جنت میں داخل کرے گا جس کی اُس نے اُنھیں خوب پہچان کرا دی ہے: ويدخلهم الجنة عرفها لهم (6: 47)۔

جنت کے معروف ماڈلوں میں سے کون سا ماڈل درست ہے، اِس کا معیار وہی اصول ہے جس کو اِس طرح کے معاملات میں سائنس میں استعمال کیا جاتا ہے، یعنی اصولِ مطابقت (principle of corroboration)۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ کسی نظریے کی صحت کو معلوم کرنے کے لیے یہ کیا جائے گا کہ اُس کو تمام متعلق (relevant) واقعات یا مظاہر کی نسبت سے جانچا جائے گا۔ اگر یہ نظریہ تمام متعلق چیزوں سے مطابقت (corroborate) کر رہا ہو تو اُس کو درست مان لیا جائے گا اور اگر کوئی ایک واقعہ بھی اِس نظریے سے مطابق نہ کرے تو اِس نظریے کو غلط قرار دے کر اِس کو رد کر دیا جائے گا۔ یہی واحد اصول ہے جس کی روشنی میں پیراڈائمز کے مختلف تصورات کا مطالعہ کر کے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ اُن میں سے کون سا نظریہ درست نظریہ ہے۔ ذیل میں اِسی اصول کی روشنی میں پیراڈائمز کے مختلف ماڈلوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اِس مطالعے سے واضح ہو جائے گا کہ سائنٹفک طریق مطالعہ کے مطابق ، اِن میں سے کون سا ماڈل علمی طور پر قابل قبول ماڈل ہے۔

بدھسٹ ماڈل

سب سے پہلے بدھسٹ ماڈل (Buddhist model) کو لیجئے۔ بدھ ازم میں اگرچہ مہایانا (Mahayana) اسکول کو چھوڑ کر، بقیہ کسی اسکول میں پیراڈائمز کا لفظ استعمال نہیں کیا جاتا ہے۔ لیکن

‹ Previous page Next page › Contents of December 2011 All issues

Printed page