مسیحی ماڈل
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۸
اصولی طور پر بدھ ازم میں پیراڈائٔز کا تصور موجود ہے۔ بدھ ازم کے نظریے کے مطابق، انسان پُرجنم (re-birth) کے ذریعے لمبا ارتقائی سفر کرتا ہے۔ اس ارتقائی سفر کے دوران وہ ہر قسم کی خواہشوں سے مکّت ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ انسانی ارتقا کی آخری منزل پر پہنچ جاتا ہے، جو بدھسٹ نظریے کے مطابق، ابدی سعادت (eternal bliss) کی منزل ہے۔
مگر یہ بدھسٹ ماڈل واضح طور پر انسانی فطرت کے مطابق نہیں۔ انسان ایک باشعور مخلوق ہے۔ انسان کے لیے اعلیٰ یافت وہی ہو سکتی ہے جو شعور کی سطح پر اُس کو ملے، لیکن بدھسٹ ماڈل میں لاکھوں سال کا پورا سفر، اور آخری منزل سب بے شعوری کی حالت میں طے ہوتے ہیں۔ انسان نہ تو حالتِ سفر میں شعوری طور پر اس عمل (process) سے باخبر رہتا ہے اور نہ وہ سفر کے خاتمے پر شعوری طور پر اس کا تجربہ کرتا ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ بدھسٹ ماڈل انسان کے لیے ناخوش گوار باتوں سے بے خبری کا سُکھ (blissful ignorance) ہے، وہ انسان کے لیے حقیقی معنوں میں مطلوب سعادت نہیں۔ یہودی ماڈل اس کے بعد یہودی ماڈل (Jewish model) کو لیجیے۔ اس ماڈل میں اگرچہ پیراڈائٔز کا تصور موجود ہے، لیکن اس کا نقص یہ ہے کہ موجودہ یہودیت کے مطابق، اس کی بنیاد ایک مخصوص نسل پر رکھی گئی ہے۔ موجودہ یہودیت کا ماننا ہے کہ یہودی نسل ایک منتخب گروہ (chosen people) کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہی منتخب گروہ پیراڈائٔز کا حق دار ہے۔ یہ تصور انسان کی آفاقی فطرت کے بالکل خلاف ہے۔ اس لیے علمی اعتبار سے وہ درست نہیں قرار پا سکتا۔
مسیحی ماڈل
یہی معاملہ کرسچن ماڈل (Christian model) کا ہے۔ موجودہ مسیحیت میں پیراڈائٔز کے وجود کو مانا گیا ہے۔ لیکن موجودہ مسیحیت کے مطابق، پیراڈائٔز کا استحقاق عقیدۂ کفارہ (atonement) سے جڑا ہوا ہے، یعنی آدمی کی خطا کے بعد تمام انسان پیدائشی طور پر گنہگار اور پیراڈائٔز سے محروم ہو چکے ہیں۔ اب پیراڈائٔز صرف ان عورتوں اور مردوں کے لیے ہے، جو اس عقیدے کو مانیں کہ مسیح
‹ Previous page Next page › Contents of December 2011 All issues