ترجیح کا مسئلہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۴۰
مصداق سمجھتے ہیں جوانھوں نے انڈیا کے خلاف چھیڑ رکھی ہے۔ مگر یہ سرتا سرا یک بے بنیاد بات ہے۔ پاکستانی لیڈروں نے 1947 سے پہلے دو قومی نظریے کے نام پر ہندوؤں سے نظریاتی لڑائی چھیڑی، مگر وہ اس میں ہار گئے۔ تقسیم کے بعد جو پاکستان اُن کو ملا، اُس کو قائدِ پاکستان مسٹر محمد علی جناح نے کٹا پھٹا پاکستان (truncated Pakistan) کہا تھا۔ اِس کے بعد پاکستان نے بار بار انڈیا سے لڑائی کی، مگر وہ ہر بار ناکام رہا۔ 1948 میں قبائل کے ذریعے کشمیر پر حملہ، 1965 میں باقاعدہ ہندوستان پر حملہ، 1971 میں بنگلہ دیش کی لڑائی، اِس کے بعد 1999 میں کارگل کی لڑائی، نیز کشمیر میں 1971 کے بعد مسلسل طور پر، پراکسی وار (proxy war) کا جنگی سلسلہ جواب تک جاری ہے۔ اِن تمام جنگوں میں انڈیا کے مقابلے میں پاکستان کو مکمل طور پر شکست ہوئی۔
اس لمبے تجربے سے دو بات واضح طور پر ثابت ہوتی ہے— ایک، یہ کہ اس حدیث میں "غزوہ" سے مراد مسلح جنگ نہیں ہے۔ اگر اس سے مراد مسلح جنگ ہوتی تو مذکورہ جنگ میں مسلمان ضرور کامیاب ہو جاتے۔ دوسری بات یہ کہ اس حدیث میں "عصابہ" سے مراد پاکستانی لوگ ہرگز نہیں ہو سکتے۔ کیوں کہ پاکستانی لوگ انڈیا کے خلاف بار بار اقدام کے باوجود یک طرفہ طور پر شکست کھا رہے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس معاملے میں پاکستان کو اللہ کی نصرت حاصل نہیں۔ سوال علماء اور اہل مدارس کے لیے الرسالہ مشن کی اہمیت کیا ہے۔ براہ کرم، اس کو واضح فرمائیں (مولانا سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تمل ناڈو)۔
جواب
جدید تعلیم یافتہ طبقے کے علاوہ، ہمارے دعوتی مشن کے اصل مخاطب علماء اور مدارسِ عربیہ کے لوگ ہیں، کیوں کہ امکانی طور پر وہ قرآن اور حدیث پر مبنی مشن کے لیے تیار ذہن (prepared mind) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کی شرط صرف ایک ہے، وہ یہ کہ مدارس عربیہ کے لوگ اپنی ڈی کنڈیشنگ کر سکیں ۔ سیکولراداروں میں پڑھے ہوئے لوگ ہمارے دعوتی مشن کو بھر پور طور پر سمجھ نہیں سکتے۔ وہ اُن
‹ Previous page Next page › Contents of December 2011 All issues