Al-Risala · December 2011 · page 41

ترجیح کا مسئلہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۴۱

اصطلاحوں سے مانوس نہیں ہوتے جن میں ہم کلام کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ گہرے علمی اور خالص دینی موضوعات پر میں صرف ان لوگوں سے گفتگو کر پاتا ہوں جن کا تعلیمی بیک گراؤنڈ عربی ہو۔ کیوں کہ جن لوگوں کا تعلیمی بیک گراؤنڈ عربی نہ ہو، اُن سے دینی موضوعات پر بات کرتے ہوئے ان کی ایک حد آ جاتی ہے اور ان سے گفتگو جاری نہیں رہ پاتی۔ اہل مدارس کی ڈی کنڈیشننگ کیا ہے، وہ اصلاً صرف ایک ہے، یہ کہ وہ شخصیت پرستی کے خول سے باہر آ جائیں۔ وہ چیزوں کو اپنے اکابر کے بجائے اصول کی حیثیت سے دیکھنے لگیں۔ اہل مدارس اگر ایسا کر سکیں تو اُن کے لیے اعلیٰ معرفت کا دروازہ پوری طرح کھل جائے گا۔ اہل مدارس کو دوسروں کے مقابلے میں، دو چیزیں خصوصی طورپر نہ حاصل رہتی ہیں— ایک، حقائق دینیہ سے مانوس ہونا۔ اور دوسرے اصطلاحات دینیہ سے آشنا ہونا۔

مزید یہ کہ حدیث کے مطابق، ایک مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے زمانے سے باخبر ہو (أن يكون بصيرا بزمانه)۔ علماء اور اہل مدارس، دینی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے باعث، اسلام کے روایتی علم سے آشنا ہوتے ہیں۔ لیکن عام طور پر وہ اُس صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں جس کو مذکورہ حدیث رسول میں’’بصیرتِ زمانہ‘‘ کہا گیا ہے، یعنی اپنے زمانے سے باخبر ہونا۔ ایسی حالت میں علماء اور اہل مدارس کے لیے ضروری ہے کہ وہ الرسالہ مشن کے تحت تیار کردہ لٹریچر کا مطالعہ کریں۔ کیوں کہ یہ لٹریچر بصیرتِ زمانہ کی اسی کمی کی تلافی کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

سوال

مسلم امت کے بحران کے موضوع پر ایک کتاب نگاہ سے گزری۔ میں نے اس کتاب کو کئی بار پڑھا، مگر اس کتاب میں متعین طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ وہ کیا چیز ہے جس کو ’امت کا بحران‘ کہا جاتا ہے، اور نہ اس بحران کا کوئی متعین لائحہ عمل اس کتاب میں پیش کیا گیا ہے۔ پوری کتاب بیانیہ انداز میں ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مصنف متعین زبان (specific language) میں کلام کرنا جانتے ہی نہیں، وہ صرف طویل ادعائی اسلوب کلام سے واقف ہیں۔ موجودہ زمانے میں امت کا بحران کیا ہے اور اس بحران سے نکلنے کا طریقہ کیا ہے، براہِ کرم، اس سوال کی وضاحت فرمائیں۔ (ابوالحکم محمد دانیال، پٹنہ)

‹ Previous page Next page › Contents of December 2011 All issues

Printed page