ترجیح کا مسئلہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۴۲
جواب
مسلم امت کا بحران موجودہ زمانے کا ایک اہم موضوع ہے۔ اس موضوع کی تحقیق اور اس کی درست توجیہہ ہی کے ذریعے یہ ممکن ہے کہ دورِ جدید میں امت کے لیے صحیح لائحہ عمل (line of action) متعین کیا جائے۔ اس لحاظ سے یہ موضوع، احیاء امت کے لیے بنیادی موضوع کی حیثیت رکھتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ مسئلہ (problem) زندگی کا لازمی جز ہے۔ جب مسئلہ پیدا ہواور آپ بروقت اس کا درست حل دریافت کر لیں تو مسئلہ آپ کے لیے مسئلہ نہیں رہے گا، بلکہ وہ عملاً آپ کے سفر ترقی کا نیا زینہ بن جائے۔ اس کے برعکس، اگر آپ مسئلے کا درست حل دریافت کرنے میں ناکام رہیں تو مسئلہ آپ کے لیے ایک غیر حل شدہ مسئلہ (unsolved problem) بن جائے گا۔ غیر حل شدہ مسئلے سے پیدا ہونے والی اسی صورت حال کا دوسرا نام بحران (crisis) ہے۔
مسلم امت کے موجودہ بحران کی اصل جڑ یہ ہے کہ دور جدید میں مغربی قوموں کی طرف سے اُس کو نئے قسم کے چیلنج پیش آئے۔ اپنے قدیم ذہن کی بنا پر مسلم رہنما اس چیلنج کی نوعیت کو سمجھ نہ سکے اور غیر ضروری طور پر اپنے روایتی ہتھیاروں کے ذریعے اس سے لڑائی شروع کردی۔ طویل قربانی کے بعد جب اُنھیں اس جنگ میں ناکامی ہوئی تو اب وہ آخری چارہ کار کے طور پر مفروضہ دشمن کے خلاف خود کش بم باری کرنے لگے۔ اس کا نتیجہ تباہی میں اضافے کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ اب کرنے کا کام یہ ہے کہ ٹکراؤ کی سیاست کو مکمل طور پر موقوف کر دیا جائے اور خالص غیر جانب دارانہ انداز میں پورے معاملے کی از سر نو تحقیق کی جائے اور پھر مبنی بر حقیقت لائحہ عمل طے کیا جائے۔ اس لائحہ عمل کی درستگی کا معیار صرف ایک ہوگا، اور وہ یہ کہ اس پر عمل کرنے سے مثبت نتیجہ برآمد ہونے والا ہو۔ ٹکراؤ کی سیاست کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان اپنے مقصدِ اصلی کو بھول گئے، اور وہ دعوت الی اللہ ہے۔ دعوت الی اللہ مسلم امت کا واحد نشانہ ہے۔ اسی نشانے کو اختیار کرنے کی صورت میں، اُن کے کام بنیں گے، اور اس نشانے کو چھوڑنے کی صورت میں، اُن کے تمام کام بگڑ جائیں گے۔ امت کا موجودہ بحران اسی کا ایک نتیجہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2011 All issues