مقری کا رول
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۶
تک یہ ماڈل عملاً قائم رہا، لیکن بعد کے زمانے میں مختلف اسباب سے یہ ہوا کہ دعوت کا تصور شعوری یا غیر شعوری طور پر ملت کے ذہن سے حذف ہو گیا، اس کے بعد بھی اگر چہ اسلام خود اپنے زور پر پھیلتا رہا، لیکن جہاں تک مدوّن عربی لٹریچر کا تعلق ہے، اس میں دعوت کا شعور یکسر مفقود نظر آتا ہے۔ حدیث کے مطابق، ظہورِ اسلام کے ایک ہزار سال بعد ایک گروہ پیدا ہوگا، اس گروہ کا نام حدیث میں اخوانِ رسول (صحیح مسلم، کتاب الطهارة) بتایا گیا ہے، یعنی دورِ آخر میں اصحابِ رسول والا رول ادا کرنے والا گروہ۔ یہ وہ خوش قسمت لوگ ہوں گے جو بعد کے زمانے میں دوبارہ مقری کے رول کو دریافت کریں گے اور اس کو بھر پور طور پر انجام دیں گے۔ اس اعتبار سے تاریخ کو دو دور میں تقسیم کیا جا سکتا ہے پرنٹنگ پریس سے پہلے کا دور، اور پرنٹنگ پریس کے بعد کا دور۔ پرنٹنگ پریس سے پہلے کے دور میں مقری کا رول یہ تھا کہ قرآن کو حافظہ کی مدد سے یاد کر لینا اور اس کو پڑھ کر لوگوں کو سنانا، پرنٹنگ پریس کے وجود میں آنے کے بعد فطری طور پر مقری کا رول یہ ہوگا کہ وہ قرآن کے مطبوعہ نسخے تیار کریں اور اس کو لوگوں کے درمیان تقسیم (distribute) کریں۔ پرنٹنگ پریس کے دور سے پہلے اس رول کا نام مقری تھا، اور پرنٹنگ پریس کے ظہور میں آنے کے بعد اس رول کا نام ڈسٹری بیوٹر (distributer) ہوگا۔ یہ تقسیم اور ڈسٹری بیوشن کوئی سادہ کام نہیں، یہ ایک عظیم نوعیت کی پر امن مہم ہے۔ قدیم زمانے میں اس مہم کے تحت مقری کلچر وجود میں آیا تھا، اب پریس کے دور میں اس مہم کے تحت دوبارہ ایک ڈسٹری بیوشن کلچر وجود میں آئے گا۔ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ آخری زمانے میں یہ ہوگا کہ دنیا کے تمام گھروں میں اللہ تعالیٰ اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث میں ادخال کلمہ سے مراد ادخال قرآن ہے۔ آخری دنوں میں یہ عالمی واقعہ اخوانِ رسول کے ذریعہ پیش آئے گا۔ اصحابِ رسول دورِ اول کے مقری بنے تھے، اخوانِ رسول دورِ آخر کے مقری ہوں گے۔ پرنٹنگ پریس سے پہلے کے زمانے میں اصحابِ رسول نے قرآن کو پڑھ کر سنانے کے ذریعہ مقری کا رول ادا کیا تھا۔ آخری زمانے میں اخوانِ رسول، مقری کا یہی رول اس طرح ادا کریں گے کہ وہ قرآن کے مطبوعہ نسخے ساری دنیا میں پہنچا دیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues