Al-Risala · January 2011 · page 7

سیاسی حقیقت پسندی

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۷

سیاسی حقیقت پسندی

حدیث کی کتابوں میں کثرت سے ایسی روایتیں آئی ہیں جن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو یہ ہدایت دی کہ تم کسی بھی حال میں حکمرانوں سے ٹکراؤ نہ کرنا۔ اگر تم سیاسی بگاڑ دیکھو تو اُس سے اعراض کرتے ہوئے غیر سیاسی دائرے میں اپنا کام جاری رکھنا۔ یہ روایتیں احادیث کے مجموعے میں کتاب الفتن کے تحت دیکھی جا سکتی ہیں۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہدایت ایک اہم حکمت (wisdom) پر مبنی ہے، وہ یہ کہ قانون فطرت کے تحت اس دنیا میں کبھی معیاری سیاسی نظام نہیں بن سکتا۔ جو نظام جب بھی بنے گا، وہ یقینی طور پر آئیڈیل سے کم ہوگا۔ ایسی حالت میں پریکٹکل وزڈم (practical wisdom) یہ ہے کہ لوگ سیاسی نظام کے معاملے میں معیار سے کم (less than ideal) پر راضی ہو جائیں۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں مستقل سیاسی ٹکراؤ جاری رہے گا اور کبھی امن اور اعتدال کی حالت قائم نہ ہوگی، جب کہ تعمیری کام کرنے کے لیے امن اور اعتدال کی حالت لازمی طور پر ضروری ہے۔

موجودہ زمانے میں اس کی ایک مثال مصر ہے۔ اسلام پسند عرب لیڈر سیاسی بگاڑ کے نام پر شاہ فاروق بن فواد (وفات: 1965) کے خلاف ہوگئے، حتیٰ کہ فوج کی مدد سے انھوں نے 1952 میں شاہ کو مصر چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ اس کے بعد جنرل نجیب محمد (وفات: 1984) مصر کے صدر بنائے گئے اور دوبارہ اختلافات شروع ہوگئے، یہاں تک کہ 1952 میں ان کو عہدے سے معزول کر کے ہاؤس اریسٹ کردیا گیا۔ اس کے بعد جمال عبدالناصر مصر کے صدر بنے، مگر اسلام پسند لیڈروں سے ان کا ٹکراؤ اور زیادہ بڑھ گیا، یہ ٹکراؤ جاری رہا، یہاں تک کہ 1970 میں 52 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد محمد انور السادات مصر کے صدر بنے یہاں تک کہ 1981 میں ان کو گولی ماردی گئی۔ اس کے بعد سے حسنی مبارک مصر کے صدر ہیں، اور حال یہ ہے کہ اسلام پسند عربوں سے ان کا سیاسی اختلاف بدستور جاری ہے۔ تقریباً 60 سال کی نام نہاد اسلامی سیاست نے مصر کو تباہی کے سوا کچھ اور نہیں دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues

Printed page