تزکیہ، ذہنی ارتقا
الرسالہ، فروری ۲۰۱۱، صفحہ ۲۶
(harmless) ہوں جس طرح چڑیا بے ضرر ہوتی ہے، کیا میں بھی اُسی طرح قانونِ فطرت کی پیروی کرتا ہوں جس طرح چڑیا قانونِ فطرت کی پیروی کرتی ہے۔ یہی سوچ، تزکیہ کی اصل روح ہے۔ اِس قِسم کی احتسابی سوچ کے بغیر کسی شخص کا تزکیہ نہیں ہو سکتا۔
تزکیہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اپنی تعمیرِ آپ کا ایک عمل ہے۔ تزکیہ میں آدمی کو خود اپنا مزکیٰ اور معلم بننا پڑتا ہے۔ کسی دوسرے شخص کی صحبت یا کسی دوسرے شخص کی تبلیغ بذاتِ خود کسی کے لیے مؤثر نہیں بن سکتی۔ دوسرا کوئی شخص آپ کو ابتدائی رہنمائی دے سکتا ہے، لیکن اِس رہنمائی کو تکمیل تک پہنچانا، آپ کا اپنا کام ہے۔ تزکیہ کے عمل میں کسی دوسرے شخص کا حصہ اگر ایک فی صد ہے تو آپ کا اپنا حصہ ننانوے فی صد۔
تزکیہ، ذہنی ارتقا
تزکیہ کے اصل معنی تطهیر (purification) کے ہیں۔ اِسی سے اِس میں ایک اور مفہوم شامل ہوا ہے اور وہ بڑھنا یا نُمُو (growth) ہے۔ اِس اعتبار سے، یہ کہنا درست ہوگا کہ تزکیہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو ذہنی ارتقا (intellectual development) یا روحانی ارتقا کہا جاتا ہے۔ ذہن (mind) کوئی جامد چیز نہیں، وہ ایک نُمو پذیر چیز ہے۔ وہ درخت کی طرح مسلسل بڑھتا رہتا ہے۔ اِسی عمل کو قرآن میں ازدیادِ ایمان (4:48) کہا گیا ہے۔ ازدیادِ ایمان سے مراد ازدیادِ شعور ہے، اور ازدیادِ شعور ہی کا دوسرا نام ذہنی ارتقا ہے۔ حقیقی ایمان وہی ہے جو کبھی جمود (stagnation) کا شکار نہ ہو، جو یقین اور ایمان باللہ کے اعتبار سے مسلسل بڑھتا رہے۔ یہ تزکیہ یا شعوری اضافہ کس طرح ہوتا ہے۔ اِس کا ذریعہ غور و فکر (contemplation) ہے۔ یہ غور و فکر اپنے آپ میں ایک مسلسل عمل ہے۔ قرآن اور حدیث میں غور و فکر، سیرتِ رسول میں غور و فکر، صحابہ کی زندگی میں غور و فکر، دوسرے موضوعاتِ انسانی پر غور و فکر، کائنات پر غور و فکر، غرض ذرہ سے لے کر آفتاب تک ہر چیز پر غور و فکر۔ اِس کے علاوہ، سنجیدہ مذاکرات کے دوران غور و فکر۔ اِس غور و فکر کے درمیان ایسا ہوتا ہے کہ ذہن میں نئے نئے خیالات آتے ہیں، معلوم باتوں کی
‹ Previous page Next page › Contents of February 2011 All issues