تزکیہ کا مقصد
الرسالہ، فروری ۲۰۱۱، صفحہ ۴۳
موت کو یاد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی کے اس نازک ترین لمحہ کو یاد کرے۔ وہ اُس آنے والے وقت کے بارے میں سوچتا رہے جو بہرحال اُس پر آئے گا۔ اُس دن اُس کے ابدی مستقبل (eternal future) کا فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ سوچ بلاشبہ ایک ایسی سوچ ہے جو آدمی کے اندر زلزلہ پیدا کردے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جو شخص اس طرح موت کے بارے میں سوچے، وہ اپنے تزکیہ کے بارے میں بے حد فکر مند ہوجائے گا۔ وہ آخری حد تک یہ کوشش کرے گا کہ وہ ہر پہلو سے اپنا تزکیہ کر ڈالے، اس سے پہلے کہ اُس پر موت آئے اور اس کے لیے اپنی اصلاح کا وقت باقی نہ رہے۔
تزکیہ کا مقصد
قرآن کی سورہ الزمر میں اہل جنت کے معاملہ کو اس طرح بتایا گیا ہے: ’’اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرے، وہ گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جائے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے تو جنت کے دروازے کھول دئے جائیں گے اور جنت کے محافظ اُن سے کہیں گے کہ سلام ہو تم پر، خوش حال رہو، پس تم جنت میں داخل ہو جاؤ ہمیشہ کے لیے۔ اور وہ کہیں گے کہ شکر ہے اُس اللہ کا جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور اُس نے ہم کو اس زمین کا وارث بنا دیا۔ ہم جنت میں جہاں چاہیں، مقام کریں۔ پس کیا خوب بدلہ ہے عمل کرنے والوں کا۔ اور تم فرشتوں کو دیکھو گے کہ وہ عرش کے گرد حلقہ بنائے ہوئے اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے ہوں گے۔ اور لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ ساری حمد اللہ کے لیے ہے، عالم کا خداوند‘‘۔ (75-39: الحمد للہ رب العالمین کی آیت سورہ الفاتحہ میں موجود دنیا کی نسبت سے آئی ہے۔ سورہ الزمر کے مذکورہ اقتباس میں یہ آیت دوبارہ آخرت کی دنیا کے لیے آئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان سے اصل چیز جو مطلوب ہے، وہ حمد خداوندی ہے۔ یہی چیز موجودہ دنیا میں بھی مطلوب ہے اور آخرت میں بھی یہی چیز مطلوب ہوگی۔ تزکیہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ ایسی پاک روحیں (purified souls) وجود میں آئیں جو آخرت میں مبنی بر حمد نظام حیات کا حصہ بن سکیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2011 All issues