This is a spiritual gift for you.
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۲، صفحہ ۹
دعوت کے عنوان سے کر رہے ہیں، آپ اس کام کو مذہبی ہم آہنگی کے نام سے کرنا شروع کر دیجیے۔ آپ تجویز مت پیش کیجیے، بلکہ عملاً خود اس کام کو شروع کر دیجیے۔
16 جون 2011 کی شام کو ڈیوڈ شینک (Rev. David Shenk) اپنی اہلیہ کے ساتھ ملاقات کے لیے آئے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ مسلم۔ کرسچن ڈائیلاگ کے موضوع پر ایک کتاب لکھ رہے ہیں۔ اپنی اس کتاب میں وہ 52 ایسے سوالات کے جوابات دے رہے ہیں، جو کہ عیسائیت کے بارے میں لوگ عام طور پر پوچھتے ہیں۔
میں نے مسٹر ڈیوڈ سے ایک سوال پوچھا۔ میں نے کہا کہ اتنا زیادہ کوشش کے باوجود مسلم۔ کرسچن ڈائیلاگ نا کام کیوں ہے۔ پھر میں نے کہا کہ میں ایسے کئی ڈائیلاگ میں شریک ہوا ہوں ۔ میں نے پایا ہے کہ اکثر لوگ ڈیبیٹ (debate) اور ڈائیلاگ میں فرق نہیں کرتے۔ وہ ڈائیلاگ کے نام پر سیمینار کرتے ہیں اور پھر وہاں ڈیبیٹ کرنے لگتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ڈائیلاگ کا مقصد کا من گراؤنڈ تلاش کرنا ہوتا ہے، جب کہ ڈیبیٹ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ فریق ثانی سے مقابلہ میں اپنی برتری کو ثابت کیا جائے۔ سب سے پہلے اس سوچ کو بدلنا چاہیے ۔ اس کے بعد ہی کوئی ڈائیلاگ مفید ہو سکتا ہے۔
مسٹر ڈیوڈ نے بتایا کہ وہ اپنے نام کے ساتھ ریورنڈ (Reverend) کا ٹائٹل استعمال نہیں کرتے۔ انھوں نے کہا کہ خدا کی نظر میں سب برابر ہیں۔ جب ہم خدا کے یہاں پہنچیں گے تو وہاں ہم ’’ریورنڈ‘‘ نہیں کہے جائیں گے۔
انھوں نے اپنی نئی کتاب (Time in Mogadishu) دی۔ جاتے وقت انھوں نے کہا: You are a group of scholars. 16 جون 2011 کی شام کو مغرب کی نماز میں سورہ الفیل اور سورہ قریش پڑھی گئی۔ نماز کے بعد دونوں سورتوں کی روشنی میں، میں نے بتایا کہ ان سورتوں میں داعی گروہ کے لیے بہت بڑی خوش خبری ہے، وہ یہ کہ خدا نہ صرف داعی گروہ کی مدد کرے گا، بلکہ وہ اس گروہ کی بھی مدد کرے گا جو ابھی صرف
‹ Previous page Next page › Contents of January 2012 All issues