Al-Risala · January 2012 · page

This is a spiritual gift for you.

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۲

پوتنشیل داعی گروہ کی حیثیت رکھتا ہو، حتیٰ کہ اگر اسباب کے اعتبار سے، اس کی حفاظت کے مواقع نہ ہوں تو خدا ایسے گروہ کو اپنی خصوصی نصرت کے ذریعے بچائے گا، جیسا کہ بنواسماعیل، جو کہ پوتنشیل داعی گروہ کی حیثیت رکھتے تھے، ان کو واقعۂ فیل کے وقت خدا کی خصوصی نصرت کے ذریعے بچایا گیا۔ ایک اسلام پسند مسلمان نے گفتگو کے دوران کہا کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات (complete code of life) ہے۔ میں نے کہا کہ اسلام کی یہ تعبیر درست نہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ اسلام ایک مکمل اسپرٹ ہے جو ہمارے پورے وجود کو اللہ کے رنگ میں رنگ دیتی ہے۔ اس کے بعد میں نے مذکورہ مسلمان کو صحابی رسول صعصعہ بن معاویہ کا واقعہ سنایا۔ روایت کے مطابق، صعصعہ بن معاویہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ نے ان کو سورہ الزلزال سنائی، یہاں تک کہ آپ تلاوت کرتے ہوئے اس آیت پر پہنچے: فمن يعمل مثقال ذرة خيراً يره، ومن يعمل مثقال ذرّة شراً يره (8-7: 99)۔ صعصعہ بن معاویہ نے اس آیت کو سن کر کہا: حسبي أن لا أسمع غيرها (اس کے بعد میں کچھ اور نہ سنوں، تب بھی یہ میرے لیے کافی ہے)۔ مذکورہ آیت صرف محاسبۂ آخرت کی آیت تھی، مگر صحابی رسول کو اسی آیت میں پورا اسلام مل گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مکمل آئیڈيالوجی کا نام مکمل اسلام ہے، نہ کہ مکمل کو ڈ کا۔ اسلام کو ایک مکمل ضابطۂ حیات کا نام دینا، اسلام کو ایک مینول فارم (manual form) کی حیثیت دینا ہے۔ خواجہ کلیم الدین صاحب کے گھر پر روزانہ تربیتی مجلسیں ہوتی تھیں۔ روزانہ مختلف اوقات میں، میں کسی تربیتی نکتے پر نصیحت کے انداز میں گفتگو کرتا تھا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ ہمارے ساتھیوں میں سے بعض افراد شاپنگ یا سائٹ سیئنگ (sight seeing) کے لیے شہر چلے گئے، اور وہ اس تربیتی مجلس میں شریک نہ ہو سکے۔ وہ جب واپس آئے تو میں نے اُن سے کہا کہ آپ لوگ اِس کو معمولی بات سمجھ رہے ہیں، مگر یہ ایک نہایت سنگین بات ہے۔ جو لوگ معمولی عذر (excuses) کی بنا پر اس مجلس میں شریک نہیں ہوئے، وہ فرشتوں کی صحبت سے محروم ہو گئے۔ فرشتوں کی صحبت کوئی سادہ بات نہیں۔ فرشتوں کی صحبت سے انسان کے اندر ایک نئی شخصیت ابھرتی ہے۔ یہی خدائی انعام ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2012 All issues

Printed page