Al-Risala · January 2012 · page

This is a spiritual gift for you.

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۲

طالب کا وجود مطلوب کی موجودگی کا ایک فطری ثبوت ہے۔

یہاں کے زمانہ قیام میں برابر لوگوں سے ملاقاتیں اور گفتگوئیں ہوتی رہیں۔ اس طرح مختلف قسم کے تجربات پیش آئے۔ مثلاً ایک ملاقات میں ایک صاحب نے کہا کہ میں ایک سنی فیملی سے تعلق رکھتا ہوں ۔ میری بیوی شیعہ خاندان میں پیدا ہوئیں ۔ بعد کو ہم دونوں نے آپ کا لٹریچر پڑھا۔ اب ہم دونوں نہ شیعہ ہیں اور نہ سنی ۔ اب ہم صرف مسلمان ہیں۔

ایک صاحب نے کہا آپ بڑی عمر کے لوگوں کی اصلاح کا کام کر رہے ہیں۔ زیادہ مفید طریقہ یہ ہے کہ آپ اسکول کھول لیں اور ابتدائی عمر سے اصلاح کا کام شروع کریں۔ انھوں نے کہا: Catch them at tender age. میں نے کہا کہ یہ نظریہ عملاً غلط ثابت ہو چکا ہے۔ بہت سے لوگوں نے یہ کام کیا اور بچوں کو لے کر انھیں اسکولوں میں پڑھایا، لیکن اس کا مطلوب نتیجہ نہ نکل سکا ۔ اس لیے آپ کو چاہیے کہ آپ نتیجہ (result) کی بنیاد پر اپنی رائے بنائیں، نہ کہ محض تصوراتی نظریے کی بنیاد پر۔ میں نے کہا کہ اصل کام ذہن کی تشکیل (intellectual engineering) ہے، جو کہ صرف پختگی (maturity) کی عمر میں کی جاسکتی ہے۔ نا پختگی (immaturity) کی عمر میں ذہن کی مطلوب تشکیل ممکن نہیں۔ مسٹر ندیم کاظمی امریکا کے ایک معروف شخص ہیں جو عرصے سے ملی ورک میں مشغول ہیں۔ میں نے گفتگو کے دوران دعوتی کام کی اہمیت بتائی۔ میں نے کہا کہ فارمل ایجوکیشن (formal education) صرف پروفیشن کی نسبت سے ہے۔ جہاں تک شخصیت سازی کا تعلق ہے، اس کے لیے صرف انفارمل ایجوکیشن (informal education) ہی مفید ہوسکتی ہے۔ ان کو ہمارے یہاں کا مطبوعہ انگریزی لٹریچر دیا گیا۔

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ قرآن کا ڈسٹری بیوشن کر رہے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک اچھا کام ہے، لیکن یہ ڈسٹری بیوشن دعوت کے نام پر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ مذہبی ہم آہنگی (interfaith harmony) کے نام پر ہونا چاہیے۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ ہم قرآن کا ڈسٹری بیوشن

‹ Previous page Next page › Contents of January 2012 All issues

Printed page