Al-Risala · March 2012 · page

Political statusquoism, Dawah activism

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲

اب آخری وقت آ گیا ہے کہ مسلمانوں میں کم از کم کوئی ایک گروہ ایسا اٹھے جو اسلام کی متشددانہ تصویر کو بدلے، جو اس بات کا ذریعہ بنے کہ خدا کا دین لوگوں کو امن اور رحمت کا دین دکھائی دینے لگے، جو اب تک لوگوں کو صرف نفرت اور تشدد کا دین نظر آ رہا ہے۔ یہ موجودہ زمانے کی ایک عظیم ترین سعادت ہے۔ جو مسلم گروہ اس سعادت کا حق دار بنے گا، وہ بلاشبہ دنیا اور آخرت میں اللہ کے عظیم انعامات کا مستحق قرار پائے گا۔ اس مقصد کو کوئی ایسا مسلم علاقہ انجام دے سکتا ہے جو بروقت عالمی میڈیا میں آ چکا ہو۔ موجودہ زمانے میں کئی ایسے مسلم علاقے ہیں جو عملاً عالمی میڈیا میں آ چکے ہیں۔ لیکن حالات بتاتے ہیں کہ غالباً صرف ایک مسلم علاقہ ہے جو اس واقعے کو ظہور میں لاسکتا ہے۔ راقم الحروف کے اندازے کے مطابق، یہ علاقہ ریاست جموں وکشمیر ہے۔ مختلف اسباب سے یہ علاقہ بالفعل عالمی میڈیا میں آ چکا ہے۔ مگر ابھی وہ متشددانہ اسلام (violent Islam) کے اعتبار سے، عالمی میڈیا میں ہے۔ اب جو کچھ کرنا ہے، وہ صرف یہ کہ اہل کشمیر اپنی اس حیثیت کو دریافت کریں اور اس کو مثبت معنوں میں وہ اسلام کی امیج بلڈنگ کے لیے استعمال کریں۔

یہ عظیم سعادت اہل کشمیر کو اُس وقت حاصل ہوگی، جب کہ وہ اپنے ہتھیاروں کو دریا میں پھینک دیں، اور اعلان کے ساتھ دنیا کو یہ بتا دیں کہ اب انھوں نے متشددانہ کلچر کو چھوڑ دیا ہے۔ اب انھوں نے سوچ سمجھ کر پر امن طریقہ اختیار کر لیا ہے، جو کہ اصل اسلام کا طریقہ ہے۔ اہل کشمیر کا یہ فیصلہ فی الفور عالمی میڈیا کے لیے ایک بریکنگ نیوز (breaking news) بن جائے گا۔ یہ ایک عظیم کریڈٹ ہے جو کسی مستحق گروہ کا انتظار کر رہا ہے، اور اہل کشمیر بلاشبہ یہی گروہ بن کر اس کریڈٹ کا استحقاق حاصل کر سکتے ہیں۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات (632ء) کے بعد وہ حالات پیدا ہو گئے۔ جب کہ عرب میں اسلام کی امیج (image) اُس سے مختلف نظر آنے لگی جو کہ پیغمبر اسلام کے زمانے میں تھی۔ اُس وقت حضرت ابو بکر صدیق اُٹھے۔ انھوں نے کہا: أينقص الدين، وأنا حي (هداية الرواة لابن حجر العسقلاني، رقم الحديث : 3031) کیا دین میں نقص آئے گا، حالاں کہ میں زندہ ہوں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page